انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 95

انوار العلوم - جلد ہے ۹۵ نجات اعلیٰ مقاصد اور ترقی کے لئے جد و جہد کرتے ہوئے اچانک مر جاتے ہیں اور ان کے اچھے کام بغیر ختم ہونے کے درمیان ہی میں رہ جاتے ہیں۔ اگر زندگی کا کوئی مقصد ہے تو اس کا کیا مطلب ہے اور کیا توجیہہ؟ ان اختلافات کی تین وجہیں بیان کی جاسکتی ہیں۔ (1) انسان اللہ تعالی کی طرف سے اس حالت اختلاف میں پیدا کیا جاتا ہے یہی اس کی وجہ ہے۔ (۲) یا یہ کہ یہ اختلاف والدین سے ورثہ میں ملتا ہے۔ (۳) پچھلے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ان میں سے پہلی اور دوسری کے ان توجیہوں میں سے کونسی درست ہے؟ متعلق ہم کہتے ہیں کہ یہ قانون قدرت کے خلاف ہیں کیونکہ ان کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ گویا انسان کو اپنے اعمال پر مقدرت نہیں ہے۔ اگر خدا نے انسان کو ان مختلف حالتوں میں بلا سبب پیدا کر دیا ہے یا انسان کو تفاوت ماں باپ سے ورثہ میں ملتا ہے تو اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ انسان کو اپنے اعمال پر قدرت نہیں کیونکہ خدا کا فعل یا اس کے ماں باپ کی حالت اسے بعض خاص حالتوں پر مجبور کر کے چلاتی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر اس کو سزا کیوں ملے گی ؟ جب خدا نے ہی ایک انسان کو اچھا یا بر ابنایا تو پھر اس کی جزاء یا سزا کیسی؟ ایک شخص کو خدا نے شریروں میں پید کیا اور وہ شریر ہوا۔ ایک کو نیکوں میں پیدا کیا وہ نیک ہوا پھر ایک کو سزا اور دوسرے کو انعام کیسا؟ آپ ہی اچھا یا برا پیدا کیا توپھر یہ عجیب بات ہو گی اگر سزا بھی اور انعام بھی دے گا اور اگر کہا جائے کہ خدا نہیں ایسا پیدا کرتا بلکہ یہ باتیں اسے ورثہ میں ملتی ہیں۔ تب بھی اس کے یہی معنی ہوں گے کہ انسان مجبوری کی حالت میں ہے اور جب وہ مجبور ہے تو اس پر الزام کیسا؟ اور اس کے لئے انعام یا سزا کیوں؟ کیونکہ اعمال میں اس کا دخل ہی نہ تھا۔ رو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا ماننے سے خدا کے انصاف پر الزام آتا ہے کہ کیوں سرا اعتراض اس نے اس اس نے اپنے بندوں میں تفاوت کیا۔ اس کا تعلق چاہتا تھا کہ وہ سب سے ایک ساہی معاملہ کرتا۔ یہ ہے کہ ہر بات جو اس دنیا میں ہمیں نظر آتی ہے وہ بلا سبب نہیں پس یہ کہہ تیسرا اعتراض دینا کہ یہ تغیر اس لئے ہے کہ خدا نے یونسی چاہا درست نہیں۔ کوئی ظاہری یا عقلی سبب اس کا موجود ہونا چاہئے جو سوائے تناسخ کے اور نہیں ہو سکتا۔