انوارالعلوم (جلد 7) — Page 90
انوار العلوم - جلدے ۹۰ نجات (۳) جب مقابلہ ہوتا ہے تو ایسے انسان کی دعا سنی جاتی ہے اور دوسروں کی روکی جاتی ہے یہ بھی دوست سے دوست کے سلوک کی مثال ہے۔ یوں تو ہر ایک شخص ہر کسی کی بات مان لیتا ہے لیکن اگر اس کے دوست کے مقابلہ میں آکر کوئی بات منوانا چاہے تو پھر نہیں مانتا۔ اسی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب مذاہب کے پیروؤں کو چیلنج دیا تھا کہ سب مل جاؤ اور مل کر دعا کے ذریعہ مقابلہ کرو پھر معلوم ہو جائے گا کہ خدا تعالی کس کی دعا سنتا ہے اور کس کی رو کرتا ہے۔ (۴) اس کی دعاؤں کی قبولیت خارق عادت طور پر ہوتی ہے۔ جو عام طبیعی قانون کو توڑ ڈالتی ہے۔ جیسے حضرت مسیح موعود کی دعا سے ایک لڑکا عبد الکریم دیوانے کتے کے کاٹنے پر بیمار ہو کر چیچ گیا حالانکہ ڈاکٹر مانتے ہی نہیں کہ کبھی ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ (۵) جس طرح ایک دوست چاہتا ہے کہ دوست اس سے کچھ مانگے اسی طرح خدا تعالیٰ ایسے انسان کو موقع دیتا ہے کہ وہ کچھ مانگے اور پھر اسے دیا جائے ۔ حضرت مسیح موعود کا الہام ہے 29 وہ چل رہی ہے نسیم رحمت کی اس کا مطلب یہی ہے کہ مانگو۔ جو دعا کیجئے قبول ہے آج دوسری فعلی شہادت یہ ہے کہ خدا تعالی ایسے انسان کو مدد اور نصرت دیتا ہے مگر اس سے مراد مال و دولت، حکومت و سلطنت نہیں بلکہ یہ ہے کہ جس مقصد کو لیکر وہ کھڑا ہوتا ہے اس میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو دنیا کے مال و اسباب اور حکومت وغیرہ کی تڑپ ہی نہیں ہوتی بلکہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے تڑپ ہوتی ہے اور یہ پوری ہو جاتی ہے۔ ایسے انسانوں کے متعلق یہ خیال کرنا کہ ان کو مال کیوں نہیں ملتا، حکومت کیوں نہیں ملتی ایسا ہی امر ہے جیسے کوئی بچہ خیال کرے کہ فلاں شخص کی لوگ عزت کرتے ہیں اس کو لڈو کیوں نہیں دیتے یا کھلونے کیوں نہیں دیتے؟ کہتے ہیں کچھ دیہاتی بیٹھے بحث کر رہے تھے کہ بادشاہ کیا کھاتا ہو گا؟ کوئی کے فلاں چیز کھاتا ہو گا کوئی کے نہیں فلاں چیز کھاتا ہو گا۔ ایک بڑھا جو دیر تک خاموش بیٹھا سنتا رہا تھا آخر اس سے نہ رہا گیا اور بے اختیار ہو کر بولا تم لوگ کیسے بے وقوف ہو کہ ان کھانوں کا نام لیتے ہو ۔ بادشاہ نے ایک کوٹھڑی گڑ کی ادھر اور ایک ادھر بھروا کر رکھی ہو گی ادھر جاتا ہو گا ایک بھیلی اٹھا کر کھا لیتا ہو گا۔