انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 87

۸۷ نجات غم نہ کرو اور خوش ہو جاؤاس جنت پر جس کا تم کو وعدہ دیا جا رہا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس کو خدا تعالیٰ الہام کے ذریعہ بتا دیتا ہے کہ تم نجات پا گئے اور ملائکہ فور۱ً اس شخص کی طرف متوجہ ہو کر اس کی خدمت میں لگ جاتے ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ جبریل کو فرماتا ہے کہ میں فلاں انسان سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو\"۔۔پھر جبریل دوسرے فرشتوں کو کہتا ہے کہ فلاں آدمی سے محبت کرو اور وہ کرنے لگ جاتے ہیں۔پس یہ خدا تعالی ٰکے تعلق اور دوستی کا قولی ثبوت ہے کہ ایسے انسان کو اس دنیا میں الہام ہوتا ہے اور فرشتوں کا نازل ہو نا ایسا ہی ہے کہ جب آقا کسی پر مہربان ہو تو اس کے نوکر اس شخص کو راہ چلتے بھی سلام کرتے اور اس کی عزت کرنے لگ جاتے ہیں۔فرشتے چو نکہ خدا تعالی ٰکے دربار کے نوکر ہیں اس لئے جس سے خدا راضی ہوتا ہے اس کے پاس وہ دوڑے آتے ہیں کہ کوئی کار لا ئقہ بتائیے جسے ہم سر انجام دیں۔الہام ربانی اور شیطانی میں فرق اس کے متعلق ایک اور سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ الہام تو شیطانی بھی ہوتے ہیں پھر کس طرح معلوم ہو کہ فلاں الہام ربانی ہے اور فلاں شیطانی ؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ الہام الہیٰ اور شیطانی الہام میں بہت سے فرق ہیں لیکن ان میں سے ایک موٹا فرق میں اس جگہ بتادیتا ہوں۔قرآن کریم میں شیطان کے متعلق آتا ہے وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْؕ-وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا جو شخص شیطان کو دوست بنا لیتا ہے وہ سخت نقصان اٹھاتا ہے اور گھاٹا پاتا ہے کیونکہ شیطان ایسے لوگوں سے بڑے بڑے وعدے کرتا ہے اور بڑی بڑی تمنائیں ان کے دلوں میں پیدا کرتا ہے لیکن شیطان جو وعدے بھی ان سے کرتا ہے وہ محض دھوکادہی کے لئے ہوتے ہیں ان کے ساتھ کوئی عملی ثبوت نہیں ہوتا۔شیطانی الہام میں بہت کچھ کہا جاتا ہے۔مثلاً یہ کہ تو نبی اور رسول ہے خدا کا پیارا ہے مگر اس کو ملتا کچھ بھی نہیں۔اس کے خلاف خدا تعالیٰ بتاتا پیچھےاور کرتا پہلے ہے۔اپنے پیارے انسان کو پہلے علوم اور معرفت دیتاہے پھر کہتا ہے کہ تونبی ہے تاکہ دھوکا نہ لگے جیسا کہ رسول کریم ﷺ کے پہلے اعمال سے ظاہر ہے۔شیطانی الہام جن لوگوں کو ہوتے ہیں ان کی ایک مثال بیان کرتا ہوں۔عبداللہ تیما پوری مدعی مأموریت ایک دفعہ مجھے کہنے لگے کہ مجھے جب ماموریت ملنے لگی تھی اس وقت میں نے حضرت مسیح موعودؑ کی استادی کاحق یاد کر کے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ وہ