انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 83

انوار العلوم - جلدے ۸۳ نجات ہے تو استغفار کرتا ہے یا نہیں؟ اگر بدی کر کے اس کی یہ حالت ہوتی ہے تو وہ باوجو د بدی کرنے کے نجات کی طرف جا رہا ہے۔ له دوسری علامت یہ ہے کہ انسان بدی کو اپنے نفس سے نہ چھپائے۔ قرآن کریم میں آتا ہے وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ أُولئِكَ حَزَاؤُهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَحَنْتَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهُرُ خُلِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَمِلِينَ ٣٣ الله تعالیٰ فرماتا ہے، اور جو لوگ ایسے ہیں کہ جب ان سے کوئی بدی ہو جاتی ہے تو وہ اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں اور اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا گناہوں کو معاف بھی کون کر سکتا ہے اور اپنے کئے پر وہ لوگ جان بوجھ کر مصر بھی نہیں ہوتے ۔ ایسے لوگوں کا بدلہ یہ ہے کہ ان کو اپنے رب کی طرف سے معافی عطا ہو گی اور ایسی جنتوں میں وہ رکھے جائیں گے کہ ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور کام کرنے والوں کا اجر بہت ہی اچھا ہو گا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کے دل میں گناہ کے بعد کچی ندامت پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے نفس کی اصلاح میں پورے طور پر لگا رہتا ہے اور اس کا دل گناہ کر کے اپنی حرکات کو درست ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کرتا وہ نجات کے راستہ پر چل رہا ہے ۔ پس ان امور کا پایا جانا بھی نجات کی ایک علامت ہے۔ تیسری علامت یہ ہے کہ نیکی کر کے طبیعت میں فخر، عجب اور تکبر نہ پیدا ہو۔ اگر نیکی کر کے ایسا نہیں ہوتا تو یہ سمجھے کہ نجات کی طرف جا رہا ہے کیونکہ نجات کے معنی قرب الہی کے ہیں اور تکبر اور خود پسندی تب ہی پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے سے چھوٹوں میں گھرا ہوا ہو اگر اپنے ہوا سے بڑوں کے قرب میں ہو تو اس کے دل میں اپنے کاموں پر فخر اور تکبر نہیں پیدا ہو سکتا۔ پس نیکی پر فخر اور عجب نہ کرنا علامت ہے اس بات کی کہ وہ نجات کی طرف جا رہا ہے ۔ چوتھی علامت یہ ہے کہ ریاء نہ ہو۔ یعنی یہ خواہش نہ ہو کہ لوگوں کے دکھانے کے لئے کوئی کام کرے ۔ پس اگر کوئی شخص محض اللہ کے لئے کام کرتا ہے تو سمجھے کہ نجات کی طرف جا رہا ہے کیونکہ نجات اس کام سے ہوتی ہے جو خدا کے لئے کیا جائے اور جو کام جس کے لئے کیا جائے اس کو دکھانے کی خواہش دل میں ہوتی ہے اور جس شخص کو اللہ تعالی کے سوا دوسروں کو اپنے کام دکھانے کی خواہش نہیں وہ یقینا اللہ تعالی کے لئے کام کر رہا ہے اور نجات کی طرف جا رہا ہے۔