انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 82

۸۲ نجات اس کے یہ معنی ہیں کہ کسی کو اس کے اعمال سے زیادہ سزا نہ دی جائے اس لئے ہم کہتے ہیں خدا عدل کرتا ہے اور اس کا یہ مطلب ہے کہ اعمال سے زیادہ کسی کو سزا نہیں دیتا۔سوم - اگر سزا کے سوال کو بالکل ہی نظرانداز کردیا جائے تو بھی عدل کے لفظ کی ضرورت باقی رہتی ہے اور خدا تعالیI عادل کہلا سکتا ہے کیونکہ اگر کوئی کسی کو خدمت کا پورا بدلہ نہیں دیتا تو یہ بھی عدل کے خلاف ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ٰجو کہ کسی کے نیک عمل کو ضائع نہیں کرتاوہ عادل کہلا سکتا ہے۔گناہ پر دلیری ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ کیا اس سے گناہ پر دلیری تو نہیں ہوتی؟ حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک جگہ میں نے بیان کیا کہ گنہگار کی بھی آخر کار نجات ہو جائے گی۔ایک شخص نے کہا مولوی صاحب! اگر یہ بات ہے تو پھر تو بڑا مزاہے خوب دل کھول کر گناہ کر لیں آخر نجات ہو جائے گی خواہ سزا کے بعدہی ہووہ ریس آدمی تھا حضرت مولوی صاحب نے فرمایا چلو بازار چل کر دس جوتیاں کھالو اور پھر دس روپیہ لے لینا۔وہ کہنے لگا یہ تو نہیں۔آپ نے فرمایا کیا تم دوزخ کا عذاب برداشت کر لو گے ؟ اور دس جوتیاں برداشت نہیں کرسکتے۔پس یہ غلط ہے کہ اس طرح گناہ کرنے پر جرأت ہو جاتی ہے۔جب کہ انسان معمولی تکالیف کو برداشت نہیں کر سکتا تو کس طرح ممکن ہے کہ کروڑوں اربوں سالوں کے عذاب کو اس خیال پر اپنے اوپر نازل کرنے کہ آخر نجات تو ہوہی جائے گی۔نجات حاصل کرنے والے کی علامتیں نجات کے متعلق ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس طرح معلوم ہو کہ انسان نجات حاصل کر رہا ہے ؟ میں اس کے لئے چند علامتیں بتاتا ہوں۔پہلی علامت یہ ہے جو ایک حدیث میں آئی ہے جو حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے۔آپ فرماتی ہیں۔رسول کریم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے۔اللهم اجعلني من الذين اذا احسنوااستبشرواواذاو اساءوا استغفروا۔اے خدا مجھے ان لوگوں میں سے بنا کہ اگر ان سے اچھی بات سرزد ہو تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر بری بات سرزد ہو تو اسے ناپسند کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں۔پس ایک علامت تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص معلوم کرنا چاہے کہ وہ نجات کی طرف جا رہا ہے یا عذاب کی طرف تو دیکھے کہ کیا جب اس سے نیکی سرزد ہوتی ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اگر بدی ہوتی