انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 81

انوار العلوم - جلدے M نجات اگر کوئی شخص ادنی تدبر سے کام لے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ قرآن کی یہ تفریق درست ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رؤیت اور اس کا لقاء محض یقین سے نہیں ہو تا بلکہ بعض خاص روحانی طاقتوں کے حصول سے ہوتا ہے۔ خدا تعالی پر کامل یقین رکھنے والے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ موجود ہیں لیکن ان کو وہ برکات نہیں ملتیں جن کی اس مذہب کی طرف سے امید دلائی جاتی ہے۔ ان تمام مذاہب میں سچا مذہب بھی ہے اس کے پیروؤں کا بھی یہی حال ہے یہ فرق کیوں ہے؟ اس لئے کہ صرف یقین ہو جانے سے کسی کام کے کرنے کی قابلیت نہیں حاصل ہو جاتی قابلیت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ آہستہ آہستہ اس یقین کے متعلق انسان اپنے اعمال کو بناتا ہے پھر اس کو ایک خاص نور عطا ہوتا ہے جس سے وہ خدا تعالیٰ کا چہرہ دیکھتا ہے۔ پس خالی یقین سے انسان میں قابلیت نہیں پیدا ہو جاتی۔ جس طرح کہ ایک آنکھ کے بیمار کو یہ یقین کہ اس کی آنکھ بیمار ہے گو علاج کی طرف تو توجہ دلا دے گا لیکن اس سے اس کی آنکھ اچھی نہیں ہو جائے گی۔ اسی طرح ایک شخص جو اس دنیا میں اپنی روحانی قابلیت کھو بیٹھا ہے اس کو یہ یقین کہ خدا تعالی کی طرف سے جو کلام نازل ہوا تھا درست تھا اپنے علاج کی طرف متوجہ کر دے گا مگر اس میں خدا تعالیٰ کو دیکھنے اور اس کے فضلوں کو محسوس کرنے کی قابلیت نہیں پیدا کرے گا۔ یہ قابلیت ایک لمبے عرصہ تک دوزخ میں رہنے کے بعد اور پرانے زنگوں کے جل جانے اور متواتر اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے اور ان کے اثر کو اپنے اندر قبول کرنے کے بعد پیدا ہو گی اور اسی کا نام عرفان ہے ۔ یعنی پہچان لیتا۔ دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے اگر دوزخ علاج ہے تو یہ عدل کا لفظ لغت میں کیوں آیا ؟ رحم ہو گا اور اس طرح سزا بھی رحم ہوگئی پھر عدل کا لفظ کہاں سے لغت میں آیا ہے ؟ ہم کہتے ہیں یہ بھی ان لوگوں کو دھوکا لگا ہے۔ اول یہ دعوی کہ عدل کا لفظ چونکہ لغت میں آیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ خدا بھی عدل کرے یہ غلط ہے کیا ہر لفظ خدا تعالی کے متعلق بنایا گیا ہے ؟ اگر یہ دا ریہ درست ہے تو زنا، جھوٹ ، فریب وغیرہ الفاظ کہاں سے؟ اسے بن گئے ہیں ؟ اسی طرح کیا خدا ظلم کرتا ہے کہ یہ لفظ لغت نے وضع کیا ہے ؟ چونکہ یہ کام بندے رے کرتے ہیں اس لئے ہے لئے یہ الفاظ پیدا ہو گئے ہیں۔ دوم - عدل کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی کو اس کے اعمال کے مطابق ضرور سزادی جائے بلکہ