انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 80

انوار العلوم - جلدے ٨٠ کیا چیز نجات کافر کی ہیں جو سے کافر ہے کہ مرنے کے با نجات نجات اس مسئلہ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہرچیز اپنی حقیقت میں ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔ پس جو شخص یہاں سے کافر مرا ضروری ہے کہ وہ مرنے کے بعد کفر میں ترقی کرے اور چونکہ وہ کفر میں ترقی کرے گا اس لئے اس کی نجات نہیں ہو سکے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک بلا علاج کے مرض ترقی کرتی ہے مگر علاج سے رک جاتی ہے اور جہنم علاج ہی ہے اس لئے مرنے کے بعد وہ مرض جس میں کوئی انسان دنیا میں مبتلاء ہے بڑھتا نہیں بلکہ دور ہوتا ہے اور اس طرح نجات پا جاتا ہے۔ اس پر عیسائی دو اعتراض کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہم کہتے ہیں دوزخ علاج نہیں ہے کیونکہ مرنے کے بعد ہر ایک انسان کو خدا کی قدرت اس کا جلال اور حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ پس اگر جہنم علاج ہوتی تو اس انکشاف کے بعد انسان کو دوزخ میں نہیں ڈالنا چاہئے کیونکہ اس کو عرفان حاصل ہو گیا لیکن چونکہ باوجود اس عرفان کے انسان دوزخ میں ڈالا جاتا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ اس میں بطور علاج نہیں بلکہ بطور سزا ڈالا جائے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارا یہ مذہب نہیں اور نہ یہ درست ہے کہ قیامت کو کفار کو عرفان حاصل ہو جائے گا۔ عرفان نہیں بلکہ ان کو یقین حاصل ہو گا اور یقین اور شئے ہے اور عرفان اور ہتے ہے۔ صرف یقین سے کوئی چیز بیچ نہیں سکتی بلکہ عرفان سے بچتی ہے۔ یہ بات کہ یقین اور عرفان میں فرق ہے میں اپنے پاس سے نہیں کہتا بلکہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔ چنانچہ ایک طرف تو قرآن کریم کی بہت سی آیات سے یہ امر ثابت ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی کی طاقتوں پر کفار کو یقین ہو جائے گا اور وہ سمجھ لیں گے کہ اب ہم بیچ نہیں سکتے۔ دوسری طرف اللہ تعالی فرماتا ہے کہ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ اعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى ٣٠۔ یعنی جو اس دنیا میں خدا تعالیٰ کا عرفان نہیں رکھتا اور اس کو اپنے دل کی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا آخرت میں بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ اس طرح فرماتا ہے۔ كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْحُوبُونَ مَ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ ۔ یعنی کفار قیامت کے دن اللہ تعالٰی کی رویت حاصل نہیں کریں گے۔ ان دونوں باتوں کے ملانے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک یقین اور عرفان میں فرق ہے وہ اس امر کا تو مدھی ہے کہ کفار کو خدا تعالی کی قدرتوں پر یقین آجائے گا اور اپنی غلطیوں کا علم ہو جائے گا مگر وہ اس امر کا انکار کرتا ہے کہ ان کو اس کا عرفان حاصل ہو جائے گا بلکہ فرماتا ہے کہ باوجود اس یقین کے وہ اگر دنیا میں اندھے تھے تو آخرت میں بھی اندھے کے اندھے ہی رہیں گے۔