انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page x of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page x

انوار العلوم جلد کے تعارف کتب ضروری ہے۔ کہ مختلف علوم کے متعلق ایسے لوگوں کے لیکچر ہوتے رہیں جو ان علوم کے ماہر ہوں۔ خواہ یہ علوم دینی ہوں یا دنیاوی ۔ کیونکہ ہر قسم کا علم انسان کی دماغی ترقی کا موجب ہوتا ہے"۔ اس تقریر میں حضور نے فرمایا کہ "علم کے معنی میرے نزدیک یہ نہیں کہ جو سچا ہی ہو میرے نزد نزدیک علم کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ ہوتے ہیں کہ فی الحقیقت وہ نت وہ بچے اور مکمل ہوتے ہیں اور بعض نہ بچے ہوتے ہیں اور نہ مکمل ہوتے ہیں۔ مگر پھر بھی ان کو علم کہا جاتا ہے"۔ اس تقریر میں حضور نے مذاہب عالم کا مختصر تعارف بھی کروایا ہے اور مذہبی علوم کے نام اور پھر ان سب کی کیفیت بیان فرمائی ہے۔ اسلامی علوم کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا ” علوم اسلامی میں سے پہلی بات علم العقائد ہے اور علم العقائد میں سب سے اہم مسئلہ ہستی باری تعالی ہے یہ معمولی علم نہیں بلکہ اس میں بڑی بڑی بھٹیں ہیں۔ مثلاً اللہ تعالی نظر آسکتا ہے یا نہیں ؟ مل سکتا ہے یا نہیں ؟ یا ملنے کے کیا نشان ہیں؟ اپنے بندوں سے کس طرح تعلق رکھتا ہے ؟ ان سے اپنی محبت اور غضب کا کس طرح اظہار کرتا ہے ؟ ہمارا اور خدا کا کیا تعلق ہے۔ تقریر دوم ۱۱۔ فروری ۱۹۲۳ء کے جلسے میں سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے دوسر نے دوسری تقریر میں دنیاوی علوم کتنی قسم کے ہیں اور کیا کیا ہیں پر دلنشیں انداز میں روشنی ڈالی حضور نے فرمایا ” جب میں دنیاوی علوم کے نام لوں گا تو یہ مطلب نہیں ہو گا کہ واقعی ہر ایک علم ہے صرف یہ مطلب ہو گا کہ بعض اس کو علم کہتے ہیں۔ جیسے اسلام کے مقابلہ میں ہندوؤں کے عقائد بتانے سے یہ غرض ہے کہ یہ معلوم ہو جائے اس میں کیا نقص اور کمزوری ہے"۔ پچاس (۵۰) سے زائد دنیاوی علوم سے متعلق حضور کی یہ مایہ ناز تقریر اپنی نظیر آپ ہے حضور نے نہایت اچھوتے رنگ میں دنیاوی علوم سے متعارف کروایا ہے اور ان علوم سے واقف ہونا ضروری قرار دیا ہے۔ حضور نے فرمایا ” دنیاوی علوم میں سے پہلا علم جس کو تمام