انوارالعلوم (جلد 7) — Page 559
۵۵۹ برگ بھیج دیا گیا- یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے جو جیل یورال کی مشرق کی طرف واقع ہے اور ماسکو سے ( چودہ سو چالیس میل کے فاصلے پر ہے اور اس جگہ پر وہ سب مشینیں تیار ہوتی ہیں جو سائبیریا کی کانوں میں جہاں روسی پولیٹیکل قیدی کام کیا کرتے تھے استعمال کی جاتی ہیں گویا ہر وقت اس کے سامنے اس اعمال کا نقشہ رکھا رہتا تھا- صرف ذہنی عذابوں پر ہی اکتفا نہیں کی گئی` بلکہ سویٹ نے اس کے کھانے پینے میں بھی تنگی کرنی شروع کی اور اس کے بیمار بچہ کو وحشی سپاہی اس کے اور اس کی بیوی کے سامنے نہایت بے دردی سے مارتے اور اس کی بیٹیوں کو نہایت ظالمانہ طور سے دق کرتے` لیکن ان مظالم سے ان کا دل ٹھنڈا نہ ہوتا تھا اور نئی سے نئی ء ایجادیں کرتے رہتے تھے` آخر ایک دن زارینہ کو سامنے کھڑا کر کے اس کی نوجوان لڑکیوں کی جبراً عصمت دری کی گئی اور جب زارینہ اپنا منہ روتے ہوئے دوسری طرف کر لیتی تو ظالم سپاہی سنگینیں مار کر اس کو مجبور کرتے کہ وہ ادھر منہ کر کے دیکھے جدھر ظالم وحشیوں کا گروہ انسانیت سے گری ہوئی کاروائیوں میں مشغول تھا` زار اسی قسم کے مظالم کو دیکھتا اور ان سے زیادہ سختیاں برداشت کرتا ہوا جتنی کہ شاید کبھی کسی شخص پر بھی نازل نہ ہوئی ہوں گی ۱۶ جولائی ۱۹۱۸ء کو معہ کل افراد خاندان کے نہایت سخت عذاب کے ساتھ قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰٰ کے نبی کی بات پوری ہوئی کہ ’’زار بھی وہ گا تو ہو گا اس گھڑے با حال زار‘‘ زار دکھوں اور تکلیفوں کو برداشت کرتا ہوا مر گیا- جنگ ختم ہو گئی` قیصر اور آسٹریا کے بادشاہ اپنی حکومتوں سے بے دخل ہو گئے- شہر ویران ہو گئے` پہاڑ اڑ گئے- لاکھوں آدمی مارے گئے- خون کی ندیاں بہ گئیں` دنیا تہ وبالا ہو گئی مگر افسوس کہ دنیا ابھی اللہ تعالیٰٰ کے فرستادہ کی صداقت کی دلیل طلب کر رہی ہے اللہ تعالیٰ کے خزانے عذاب سے بھی خالی نہیں- جس طرح کہ رحمت سے خالی نہیں` مگر مبارک ہیں جو وقت پر سمجھ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے لڑنے کی بجائے اس سے صلح کرنے کے لیے دوڑتے ہیں اور اس کے نشانوں سے اندھوں کی طرح نہیں گزر جاتے- اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمتیں ہوتی ہیں اور اس کی برکتوں سے وہ حصہ پاتے ہیں اور دنیا کے لیے مبارک ہو جاتے ہیں