انوارالعلوم (جلد 7) — Page 534
۵۳۴ اس میں سے شراب کی بہت سی بوتلیں نکلیں اوراس کی بیوی اور لڑکے نے گواہی دی کہ وہ چھپ کر خوب شراب پیا کرتا تھا` حالانکہ وہ اپنے مریدوں کو سختی سے شراب پینے سے روکتا تھا` اور کسی نشہ کی چیز کی اجازت نہیں دیتا تھا حتی کہ تمباکو نوشی سے بھی منع کرتا تھا اور اس کی بیوی نے کہا کہ میں اس کی سخت غربت کے ایام میں بھی وفادار رہی ہوں مگر اب مجھے یہ معلوم کر کے سخت افسوس ہوا ہے کہ اس نے ایک مالدار بڑھیا سے شادی کرنے کی خاطر یہ نیا سلسلہ بیان کرنا شروع کیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں جائز ہیں درحقیقت اس مسئلہ کی تہہ میں اس کا اپنا ارادہ شادی کا ہے چنانچہ اس نے اس بڑھیا کے خطوط جو ڈوئی کے خطوں کے جواب میں آئے تھے لوگوں کو دکھائے اس پر لوگوں کا غصہ اور بھی بھڑکا اور جماعت کے اس روپیہ کا حساب دیکھا گیا جو اس کے پاس رہتا تھا اور معلوم ہوا کہ اس نے اس میں سے پچاس لاکھ روپیہ غبن کر لیاہے اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ شہر کی کئی نوجوان لڑکیوں کو اس نے خفیہ طور پر ایک لاکھ سے زائد روپیہ کے تحائف دئیے ہیں اس پر اس جماعت کی طرف سے اسے ایک تار دیا گیا جس کے الفاظ یہ ہیں تمام جماعت بالاتفاق تمہاری فضول خرچی` ریاکاری غلط بیانی` مبالغہ آمیز کلام لوگوں کے مال کے ناجائز استعمال- ظلم اور غضب پر سخت اعتراض کرتی ہے اس واسطے تمہیں تمہارے عہدے سے معطل کیا جاتا ہے- ڈوئی ان الزامات کی تردید نہ کر سکا اور آخر سب مرید اس کے مخالف ہو گئے اس نے چاہا کہ خود اپنے مریدوں کے سامنے آکر ان کو اپنی طرف مائل کرے مگر سٹیشن پر سوائے چند لوگوں کے کوئی اس کے استقبال کو نہ آیا اور کسی نے اس کی بات کی طرف توجہ نہ کی آخر وہ عدالتوں کی طرف متوجہ ہوا مگر وہاں سے بھی اس کو قومی فنڈ پر قبضہ نہ ملا اور صرف ایک قلیل گزارہ دیا گیا اور اس کی حال ناچاری کی یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کی حبشی نوکر اس کو اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر رکھتے تھے اور سخت تکلیف اور دکھ کی زندگی وہ بسر کرتا تھا اس کی تکلیف اور دکھ کو دیکھ کر اس کے دوچار ملنے والوں نے جو ابھی تک اس سے ملتے تھے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنا علاج کروائے` مگر وہ علاج کرانے سے اس بناء پر انکار کرتا رہا کہ لوگ کہیں گے کہ یہ لوگوں کو تو علاج سے منع کرتا تھا اور خود کراتا ہے- آخر جب کہ اس کے ایک لاکھ سے زیادہ مریدوں میں سے صرف دو سو کے قریب باقی رہ گئے اور عدالتوں میں بھی ناکامی ہوئی اور بیماری کی بھی تکلیف بڑھ گئی تو ان تکالیف کو برداشت نہ کر سکا اور پاگل ہو گیا اور ایک دن اس کے چند مرید جب اس