انوارالعلوم (جلد 7) — Page 467
۴۶۷ مطلب کو گم کر دینا ہے۔قرآن کریم پہلی کتب پر بطور شاہد کے آیا ہے نہ کہ پہلی کتب اس پر بطور شاہد کے ہیں کہ اس کے بتائے ہوئے مضمون کے خلاف ہم ان کتب سے شہادت طلب کریں، ہمیں چاہئے کہ خود قرآن کریم سے اس کی تفسیر کریں اور اس کے مطلب کو باہر سے تلاش کر نے کی بجائے اس کے اندر ڈھونڈیں۔آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ قرآن کریم ایک مرتب اور باربط کتاب ہے اس کے مضامین یونہی بکھرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ شروع بِسْمِ اللہ لے کر وَالنَّاس تک اس کی آیات اور اس کی سورتوں میں ایک ترتیب ہے جو ایسی اعلیٰ اور طبعی ہے کہ جس شخص کو اس پر اطلاع دی جاتی ہے اور اس کے اثر سے وجد میں آجاتاہے اور اس کے مقابلے میں کسی انسانی کتاب کی ترتیب میں لطف حاصل نہیں کر سکتا جن لوگوں نے قرآن کریم کے مضامین کو بے ترتیب قرار دیا ہے یا مختلف واقعات و مضامین کا مجموعہ سمجھا ہے انہوں نے درحقیقت اس بے نظیر کتاب کے معارف سے کوئی حصہ نہیں پایا۔اور اپنی جہالت پر نازاں ہوگئے اور اپنی کم علمی پر توکل کر بیٹھے ہیں، ان کا خیال بالکل غلط اور باطل ہے اور آپؑ نے قرآن کے مضامین کی ترتیب کو مثالوں سے ثابت کیا اور دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔آپ ؑ نے اس خیال کوبھی اپنے تجربے اور مشاہدے اور دلائل سے ردّ کیا کہ اب اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرتااور بتا یا کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت معطل نہیں جبکہ وہ پہلے کی طرح اب بھی دیکھتا اور سنتا ہے توکیا وجہ ہے کہ وہ اب بولنے سے رُک گیا ہے۔شریعت اور چیز ہے اور خالی وحی اَور چیز ہے وحی تو اس کی رضا کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اس کے بند ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہیں بند ہو گئیں اللہ کا کلام کبھی منقطع نہیں ہو سکتا۔جب تک انسان دنیا میں موجود ہے اور جب تک انسانوں میں سے بعض اللہ تعالیٰ کی رضاء کے حصول کے لئے سچے دل سے کوشاں ہیں اور اسلام کی تعلیم پر عامل ہیں اس وقت تک کلامِ الٰہی نازل ہوتا رہے گا۔غرض کُتب سماویہ اور کلام الٰہی کے متعلق جس قدر غلط فہمیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں اور جن کی وجہ سے یہ رُکن ایمان بالکل منہدم ہو چکا تھا اُن کو آپؑ نے دُور کیا اور پھر اس رُکن کو اصل بنیادوں پر قائم کیا اور اللہ کے کلام کی اصل عظمت اورحقیقت کو ثابت کر کے طبائع کو اس کی طرف مائل کیا اور اس کی روشنی کو ان پر دوں کے نیچے سے نکالا، جو اس پر مسلمانوں نے