انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 427

۴۲۷ دیکھو تو پھر سورج کو دیکھتے ہوے رات کا اعلان نہ کرو اور نور کی موجودگی میں ظلمت کے شاکی نہ بنو`تم کو میرے نفس کے سوا اور کس دلیل کی ضرورت ہے؟ اور میرے پچھلے چال چلن کو چھوڑکر اور کس حجت کی حاجت ہے؟ میرا نفس خود مجھ پر گواہ ہے اور میری زندگی مجھ پر شاہد ہے اگر تم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے تو اس کا دل اور اس کا دماغبھی اس امر کی شہادت دیگا کہ صداقت اس میں قائم ہے اور یہ صداقت سے قائم ہے راستی کو اس پر فخر ہے اور اس کو راستی پر فخر ہے- یہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے دوسری چیزوں کا محتاج نہیں اس کی مثال آفتاب آمد دلیل آفتاب کی سی ہے یہی وہ زبردست دلیل ہے جس نے ابوبکر ؓکے دل میں گھر کر لیا اور یہی وہ طاقتور دلیل ہے جو ہمیشہ صداقت پسند لوگوں کے دلوں میں گھر کرتی چلی جاے گی` جب آنحضرت ﷺ نے دعوی کیا تھا- اس وقت حضرت ابوبکرؓ اپنے ایک دوست کے گھر پر تشریف رکھتے تھے- وہیں آپ کی ایک آزاد لونڈی نے اطلاع دی کہ آپ کے دوست کی بیوی کہتی ہے کہ اس کا خاوند اس قسم کا نبی ہو گیا ہے جس قسم کا نبی موسی ٰکو بیان کرتے ہیں- آپ اسی وقت اٹھ کر رسول کریم ﷺکے گھر پر تشریف لے گے اور آپ سے دریافت کیا`آپؐ نے فرمایا` میں خدا کا رسول ہوں` حضرت ابوبکر ؓنے اس بات کو سنتے ہی آپ کے دعوی کو تسلیم کر لیا رسول کریم ﷺبھی آپ کے ایمان کے متعلق فرماتے ہیں ما دعوت أحدا الی الإسلام الا کانت عندہ کبوة و نظر و تردد الا ماکان من ابی بکر ما عکم عنہ حین ذکرت لی یعنی میں نے کسی کو اسلام کی طرف نہیں بلایا مگر اس کی طرف سے کچھ روک اور فکر اورتردد ظاہر ہوا`لیکن ابوبکرؓ کے سامنے جب اسلام پیش کیا تو وہ بالکل متردد نہیں ہوا بلکہ اس نے خود اسلام کو قبول کر لیا-یہ کیا چیز تھی جس نے حضرت ابوبکر کو بغیر کسی نشان دیکھے رسول کریم ﷺپر ایمان لانے کے لیے مجبور کر دیا- یہ رسول کریم ﷺکا نفس ناطقہ تھا جو اپنی سچائی کا آپ شاہد ہے- حضرت خدیجہ ؓحضرت علی ؓاور 'حضرت زیدؓ بن حارث بھی اسی دلیل کو دیکھ کر ایمان لائے بلکہ حضرت خدیجہ ؓنے تو نہایت وضاحت سے اس دلیل کو اپنے ایمان کی وجہ کے طور پر بیان بھی کیا ہے`جب رسول کریم ﷺکو غار حرا فرشتہ نظر آیا اور آپ نے آ کر حضرت خدیجہ سے کل واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ لقد خشیت علی نفسی کہ میں اپنی جان کے متعلق ڈرتا ہوں تو اس وقت حضرت خدیجہ ؓ نے جواب میں کہا۔کلا واللہ