انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 421

۴۲۱ دعوۃالامیر میں بھی کوئی شک نہیں کہ زلزلے پہلے بھی آتے رہے ہیں، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جوئے کی زیادت پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اخلاق لوگوں کے پہلے بھی بگڑتے رہے ہیں، مسیحیوں کو بھی ایک زمانے میں ایک معتدبہ حصہ عالم پر اقتدار حاصل رہ چکا ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب حالات جو مسیح موعود کے زمانے کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں، کبھی کسی وقت دنیامیں جمع بھی ہوئے ہیں یا ان کا کسی اور زمانے میں جمع ہونا ممکن بھی ہے؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہےاور وہ یہ ہے کہ نہیں ہرگز نہیں ، اگرا یک شخص کو جسے اس زمانے کی حالت معلوم نہ ہو پہلے اخبار رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے واقف کیا جائے پھر اسے دنیا کی تاریخ کی کتب دیدی جاویں کہ ان کو پڑھ کر بتاؤ کہ مسیح موعود کے ظاہر ہونے کا کونسا زمانہ ہے تو آدم علیہ السلام کے زمانے سے شروع کر کے اس زمانے کے شروع ہونے تک کسی ایک زمانے کو بھی مسیح موعود کا زمانہ قرار نہیں دیگا لیکن جو نہی وہ اس زمانے کے حالات کو پڑھے گا بے اختیار بول اٹھے گا کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کہا تھاسچ ہے تو مسیح موعود کے ظاہر ہونے کا یہی زمانہ ہے کیونکہ وہ ایک طرف دین سے بے توجہی کو دیکھے گا دوسری طرف علوم دنیاوی کی ترقی کو دیکھے گا ، مسلمانوں کی حکومت کو بعد اقتدار کے ضعیف پائے گا، مسیحیت کو تنزل کے بعد ترقی کی طرف قدم مارتا ہوا دیکھے گا۔مسیحیت کے ماننے والوں کو ساری دولت پر قابض مگر اس کے مخالفوں کو غریب پائے گا، باوجود طبّ اور سائنس کی ترقی کے طاعون اور انفلوئنزا کی اجاڑ دینے والی تباہی کا نقشہ اس کی آنکھوں کے سامنے آئے گا،بیماریوں کو اس زمانے میں کیڑوں کی طرف منسوب کئے جانے کا حال اسے معلوم ہوگا،رسوم اور بدعات میں لوگوں کو مبتلا ءپائے گا ،ریل اور دخانی جہازوں کی خبر پڑھے گا ، بنکوں کی گرم بازاری کا نقشہ دیکھے گا۔زلزلوں کی کثرت معلوم کرے گا ، یاجوج اور ماجوج کی حکومت کا دور دورہ پائے گا، آسمان پر چاند اور سورج گرہن اس کی آنکھوںکو کھولے گا، زمین پر دولت کی کثرت، مزدوروں کی یہ ترقی اس کی توجہ کو اپنی طرف پھیریں گی، غرض ایک ایک صفحہ اس زمانے کی تاریخ کا اور اس صدی کے واقعات کا اس کو اس امر کی طرف توجہ دلائے گا کہ یہی زمانہ مسیح موعود کا ہے وہ ایک ایک چیز پر نظر نہیں ڈالے گا بلکہ مجموعی طور پر سب نشانات پر غور کرے گا تو اس کے ہاتھ کانپ جائیں گے اور اس کا دل دھڑکنے لگے گا، اور وہ بے اختیار کتاب کو بند کر دے گا اور