انوارالعلوم (جلد 7) — Page 418
۴۱۸ دعوۃالامیر متعلق بعض ایسی علامات بھی بیان فرمائی ہیں جو تغیرات مکانی سے تعلق رکھتی ہیں، مثلا ًآپ ؐنے اس وقت کی زمینی اور آسانی حالتوں کو بھی بیان فرمایا ہے جن میں سے بعض میں اس جگہ بیان کرتا ہوں۔زمینی تغیرات زمین کی اندرونی حالت کے متعلق رسول کریم ﷺسے حذیفہ ابن الیمانؓ نے یہ روایت بیان فرمائی ہے کہ آنحضرت ﷺنے اشراط ساعت میں سے علامات کی علامات بیان فرما کر فرمایا کہ جب یہ علامات پوری ہو جائیں تو تم بعض بلاؤں کے منتظرر ہو جن میں سے ایک آپ نے خسف بیان فرمائی اور خسف جیسا کہ علم طبیعات سے ثابت ہے زلزلے کے سبب سے ہوتا ہے پس خسف سے مراد جناب سرور کائنات کی زلازل سے ہے اور یہ زمین کے اندر کا تغیر بھی جس کے سبب سے کثرت سے زلز لے آویں پیدا ہو چکا ہے اور پچھلے بیس سال میں دنیا میں اس قدر زلزلے آئے ہیں کہ ان سے پہلے تین سو سال میں بھی اس قدر زلزلے نہیں آئے تھے اور اس قدر موتیں ان سالوں میں زلزلوں کے ذریعے سے ہوئی ہیں کہ پچھلی کئی صدیوں میں بھی اس قدر موتیں زلزلوں سے نہیں ہوئیں۔فلکی علامات علاوہ زمینی تغیرّات کے رسول کریم ﷺ نے مسیح موعودؑ کے زمانے کے بعض فلکی حالات بھی بیان فرمائے ہیں۔مثلاً یہ کہ اس وقت سورج اور چاند کو ر مضان کے مہینے میں خاص تاریخوں میں گرہن لگے گا اور اس علامت پر اس قدر زور دیا گیا ہے کہ رسول کریم ؐنے فرمایا کہ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے یہ دونوں علامتیں کسی اور نبی کی تصدیق کیلئے ظاہر نہیں ہوئیں حدیث کے الفاظ یہ ہیں ان لمهدينا ايتین لم تكونا منذخلق السموت والأرض ینکسف القمر لأول لیلہ من رمضان و تنکسف الشمس في النصف منه ولم تکونا منذ خلق الله السموات والأرض ، یعنی محمد بن علیؓ نے روایت کی ہے کہ ہمارے مہدی کے دو نشان ہیں یہ نشان آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے لے کر اب تک کبھی ظاہر نہیں ہوئے ایک تو یہ کہ قمر(چاند) کو رمضان میں پہلی رات میں گرہن لگے گا اور دوسرا یہ کہ سورج کوراسی رمضان کی درمیانی تاریخ میں گرہن گئے اور یہ دونوں باتیں آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے نہیں ہوئیں۔یہ نشان اپنے اندر کئی خصوصیات رکھتا ہے ایک تو یہ کہ اس میں بیان کیا گیا ہے کہ سوائے مہدی کے کسی مدعی کیلئے یہ نشان بھی ظاہر نہیں ہوا۔دوسرے یہ کہ اس نشان پر کُتب اہلسنت و شیعہ متفق ہیں کیونکہ دونوں کی کتب حدیث میں اس کا ذکر ہے پس اس