انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 403

۴۰۳ دعوۃالامیر شراب جس قدر پی جاتی ہے اس قدر پانی نہیں پیا جاتا، پہلے زمانوں میں بھی لوگ شراب پیتے تھے مگر بطور عیش کے یا دو اکے ، لیکن آج کُل دنیا کے ایک بڑے حصے میں شراب بطور غذاء اور پانی کے پی جاتی ہے۔خصوصاً یہ علامت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے کہ راستوں میں شراب پی جائے گی۔یہ اس زمانے کو پہلے زمانوں سے ممتاز کر دیتی ہے۔پہلے زمانوں میں چونکہ شراب سامانِ تعیش میں سے سمجھی جاتی تھی اور اس کے مہیا کرنے کے لئے وہ کوشش نہ کی جاتی تھی جو اَب کی جاتی ہے۔خاص خاص مقامات پر دکانیں ہوتی تھیں۔جہاںسے لوگ شراب خرید لیتے تھے، مگر اب تو یہ حال ہے کہ شراب پانی کی جگہ استعمال ہوتی ہے اس لئے اس کا قریب قریب کے فاصلے پر سڑکوں پر مہیا کر نا ضروری ہو گیا ہے، چنانچہ یورپ میں سڑکوں کے کنارے کنارے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر شراب کی دوکانیں کھلی ہوئی ہیں تا مسافروں کا حلق سُوکھا نہ رہ جائے اور ریلوں کے ساتھ شراب کا انتظام کیا جاتا ہے اور خواہ کھانے کا انتظام ہو یا نہ ہو مگر انتظار کے کمروں میں شراب ضرور تیار رکھی جاتی ہے۔لنڈن جیسے شہروں میں تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر شراب اور پانی کے گلاس ایک قیمت پر فروخت ہوتے ہیں، مگر پانی پینے کی غرض سے نہیں بلکہ دیگر حاجات پوری کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے۔کثرت شراب کی حالت کا نقشہ اس قصے سے اچھی طرح ذہن نشین ہو سکتا ہے جو ہماری جماعت کے ایک مبلغ انگلستان کو پیش آیا۔ان کا صاحبِ مکان ان کی نیک چلنی اور خوش معاملگی کو دیکھ کر اس قدر خوش ہوا کہ اس نے ایک دن بڑی محبت سے کہا میں آپ کو ایک نصیحت کرتا ہوں جسے آپ خوب یاد رکھیں۔اس سے آپ کی صحت بہت اچھی رہے گی اور وہ یہ ہے کہ آپ اس ملک میں پانی بالکل نہ پیئں۔میرے باپ نے ساری عمر میں ایک دفعہ پانی پیا تھا، وہ اسی دن مر گیا اور میں نے اب تک کبھی پانی نہیں پیا۔جب ہمارے مبلغ نے کہا کہ وہ توشراب کا ایک قطرہ بھی نہیں پیتے پانی ہی پیتے ہیں تو وہ نہایت حیران ہوا اور اس بات کا ماننا اسے بہت مشکل معلوم ہوا۔ایک اخلاقی تغیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے کے متعلق یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت جوئے کی کثرت ہوگی، چنانچہ حضرت علیؓ سے ویلمی میں مروی ہے کہ قیامت کے قرب کی علامتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس وقت لعبِ میسر (جوئے کا کھیل) زیادہ ہو جائے گا۔یہ تغیر اس وقت جس حد تک رونما ہو رہا ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں، قمار بازی یورپ اور امریکہ کے لوگوں کا نہ صرف مشغلہ ہے بلکہ ان کے تمدن کا ایک جزو لا ینفک ہو گیا ہے۔ہر ایک