انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 396

۳۹۶ دعوۃالامیر معلوم ہو گا کہ اس زمانے کے سوا مسیح کا نزول اور کسی زمانے میں نہیں ہو سکتا اور ان سلسلوں میں سب سے پہلے مسیح موعود کے زمانے کے مذہبی حالات کو لیتا ہوں۔مذہبی حالت کسی زمانے کی دوطرح بیان کی جا سکتی ہے ایک تو اس وقت کے مذاہب کے ظاہری اعداد و شمار سے اور ایک اس وقت کے لوگوں پر مذہب کا جو اثر ہو اسے بیان کر کے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعودؑ کے زمانے کی ان دونوں حالتوں کو بیان فرما دیا ہے۔میں ان دونوں حالتوں میں سے پہلے مذاہب کے ظاہری نقشہ کو لیتا ہوں کیونکہ یہ زیادہ ظاہر ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس حالت کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں کہ اس وقت مسیحیت کا بہت زور ہوگا۔چنانچہ مسلم میں روایت ہے کہ قیامت اس وقت آئے گی جب کہ اکثر اہل ارض روم ہوں گے ۱؎ اور جیسا کہ علمائے اسلام کا اتفاق ہے۔روم سے مراد نصاریٰ ہیں، کیونکہ زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں رومی ہی نصرانیت کے نشان کے حامل اور اس کی ترقی کی ظاہری علامت تھے۔یہ پیشگوئی اس امر کو مد نظر رکھ کر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔اِذَاھَلَکَ کِسْرٰی فَلاَ کِسْرٰی بَعْدَہٗ وَاِذَا ھَلَکَ قَیْصَرُ فَلاَ قَیْصَرَ بَعْدَہٗ۔وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَتُنْفِقُنَّ کُنُوْزَھُمَا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ (ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء اذا ذھب کسریٰ فلا کسریٰ بعدہ) نہایت عظیم الشان نظر آتی ہے کیونکہ رومی حکومت کے اس قدر استیصال کے بعدکہ قیصر کا نام ونشان مٹ جائے۔پھر نصاریٰ کا غلبہ ایک حیرت میں ڈال دیتے والی خبر تھی، مگر خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں۔قیصر کی حکومت مطابق اخبار نبویہ کے مٹ گئی اور ایک عرصہ کے بعد خالی خطاب قیصر کا جو قسطنطنیہ کے بادشاہ کو حاصل تھا۔فتح قسطنطنیہ پر وہ بھی مٹ گیا اور اسلام دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل گیا مگر دسویں صدی ہجری سے فیج اعوج کا زمانہ پھر شروع ہو گیا ور آہستہ آہستہ مسیحیت نے ان ممالک سے ترقی کرنی شروع کی ، جہاں کہ اس وقت جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیحیت کی دوبارہ ترقی کی خبر دی تھی ا س کا نام تک بھی نہ پایا جاتا تھا اور ایک سو سال کے عرصے سے تو کُل رُوئے زمین پر مسیحی حکومتیں اس طرح مستولی ہیں کہ اہل الارض الروم کی خبر کے پورا ہونے میں کوئی شُبہ نہیں رہا۔اس پیشگوئی کو یہ اہمیت حاصل ہے کہ بعض علمائے اسلام نے اس کی نسبت لکھا ہے کہ یہ علامت سب علامات پوری ہوجانے کے بعد پوری ہوگی، چنانچہ نواب صدیق حسن خاں صاحب اپنی کتاب حجج الکرامہ میں بحوالہ رسالہ حشر یہ لکھتے ہیں:۔’’چوں جملہ علامات حاصل شود قوم نصاریٰ غلبہ کنندہ بر ملک ہائے بسیار متصرف شوند۔‘‘(حجج الکرامۃ فی اٰثار القیامۃ صفحہ ۳۴۴ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ )