انوارالعلوم (جلد 7) — Page 381
۳۸۱ علم تاریخ اور علم قواعد، تدوین تاریخ اور علم فقہ وغیرہ علوم کی بنیاد پڑی اور ان علوم نے اسی قدر زیادہ ترقی حاصل کی جس قدر کہ ان علوم کی حفاظت کا قرآن کریم سے تعلق تھا، چنانچہ ظاہری علوم میں سے صرف و نحو اور لغت کا تعلق حفاظت قرآن کے ساتھ سب سے زیادہ ہے اور ان علوم کو اس قدر ترقی حاصل ہوئی ہے کہ یورپ کے لوگ اس زمانے میں بھی عربی صرف و نحواور لغت کو سب زبانوں کی صرف و نحو اور لغت سے اعلیٰ اور زیادہ مدون خیال کرتے ہیں۔ان علوم کی ترقی کے علاوہ حفاظت قرآن کریم کے لئے ہزاروں لاکھوں آدمیوں کے دل میں حفظِ قرآن کی خواہش پیدا کر دی گئی اور اس کی عبارت کو ایسا بنایا گیا کہ نہ نثر ہے نہ شعر جس سے اس کا یاد کرنا بہت ہی آسان ہوتا ہے۔ہر شخص جسے مختلف قسم کی عبارتوں کے حفظ کرنے کا موقع ملا ہے جانتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات کا حفظ کرنا سب عبارتوں سے زیادہ سہل اور آسان ہوتا ہے غرض ایک طرف اگر قرآن کریم ایسی عبارت میں نازل کیا گیا ہے کہ اس کا حفظ کرنا نہایت آسا ن ہوگیا ہے تو دوسری طرف لاکھوں آدمیوں کے دل میں اس کے حفظ کر نے کی خواہش پید اکر دی گئی ہے اور نمازوں میں قرآن کریم کی تلاوت فرض کر کے ہر مسلمان کے ذمے اس کے کسی نہ کسی حصے کی حفاظت مقرر کر دی گئی ہے حتیٰ کہ اگر قرآن کریم کے سب نسخوں کو بھی نعوذ باللہ من ذالک کوئی دشمن تلف کر ڈالے تب بھی قرآن کریم دنیا سے مٹ نہیں سکتا۔یہ چند مثالیں جو میں نے بیان کی ہیں اس امر کے ثابت کر نے کے لئے کافی ہیں کہ قرآن کریم کی حفاظت ظاہری کے لئے اللہ تعالیٰٰ نے بہت سے ذرائع پیدا کر دئیے ہیں جن کی موجود گی میں اس کا ضائع ہو جانا بالکل نا ممکن ہو گیا ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب الفاظ کی حفاظت کے لئے جو مقصود با لذات نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے اس قدر سامان مہیا کئے تو کیا ممکن ہے کہ وہ معانی کو یونہی چھوڑ دے اور ان کی حفاظت نہ کرے؟ ہر شخص جو عقل ودانش سے کام لینے کا عادی ہے اس سوال کا یہی جواب دے گا کہ نہیں یہ بات ممکن نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰٰ نے ظاہری حفاظت کا سامان کیا ہے تو باطنی حفاظت کا سامان اس سے کہیں زیادہ ہوگا اور یہی بات درست ہے۔آیۂ کریم اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ میں دونوں ہی قسم کی حفاظت کا ذکر ہے۔لفظی بھی اور معنوی بھی اور معنوی حفاظت کاسب سے بڑا جزویہ ہے کہ جب لوگ ہدایت قرآنیہ سے دور ہوجائیں اور قرآن کریم