انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 379

۳۷۹ کا انصرام اپنی ہی ذات کے متعلق وابستہ رکھا ہے۔قرآن کریم ضرورت زمانہ کے مطابق لوگوں کی ہدایت کے سامان پیدا کرنے کو نہ صرف واجب ہی قرار دیتا ہے بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایساانتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو بندوں حق ہوتا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پراعتراض کرتے کہ جب اس نے ان کے پاس ہادی نہیں بھیجے تووہ ان سے جواب کیوں طلب کرتا ہے اور ان کو عذاب کیوں دیتا ہے۔چنا نچہ سورہ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَوْ أَنَّا أَہْلَکْنَاہُم بِعَذَابٍ مِّن قَبْلِہِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَیْْنَا رَسُولاً فَنَتَّبِعَ آیَاتِکَ مِنْ قَبْلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخْزٰی یعنی اگر رسول کی بعثت سے پہلے ہم ان پر عذاب نازل کردیتے تو یہ ہم پر اعتراض کرتے کہ جب ہم گمراہ تھے اور ہدایت کے محتاج تھے تو تُونے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی تیرے احکام کو قبول کر لیتے اور اللہ تعالیٰٰ ان کے اس اعتراض کو تسلیم کرتا ہے اور اس کا رد نہیں کرتا بلکہ اس مضمون کو قرآن کریم کے متعدد مقامات پر بیان کر کے اس کی اہمیت کو ثابت فرماتا ہے۔اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرورت کے موقع پر ہادی بھیجے بغیر عذاب نازل کر نے کو ظلم قرار دیتا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِیْ وَیُنذِرُوْنَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہَـذَا قَالُوْا شَہِدْنَا عَلَی أَنفُسِنَا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَoذَلِکَ أَن لَّمْ یَکُنْ رَّبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرَی بِظُلْمٍ وَأَہْلُہَا غَافِلُونَo(اے جنوں اور انسانوں کی جماعتو! کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں ہمارے احکام پڑھ پڑھ کر سناتے تھے اور تم پر جو یہ دن آنے والا تھا اس سے تمہیں ڈراتے تھے۔انہوں نے کہاہم اپنے خلاف آپ گواہی دیتے ہیں اور انہیں ورلی زندگی نے دھوکا دے دیا اور انہوں نے اپنے خلاف آپ گواہی دے دی کہ وہ کافر تھے۔یہ (رسولوں کا بھیجنا اور کفار پر حجت قائم کرنا) اس لئے کیا کہ تیرا خدا شہروں کو اس حالت میں کہ لوگ غافل تھے، ظالمانہ طور پر ہلاک نہیں کر سکتا تھا۔ان آیات کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا ہوشیار کر دینے کے کسی قوم پر حجت قائم کر دینا اور اس کی ہلا کت کا فتویٰ لگا دینا ظلم ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر کوئی قوم ہدایت کی محتا ج ہو اور اللہ تعالیٰٰ اس کے لئے ہادی نہ بھیجے ، لیکن قیامت کے دن اسے سزا دیدے کہ تم