انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 344

۳۴۴ دعوة الا میر عیسیٰؑ زندہ ہوتے تو میری اطاعت کے سوا ان کو کوئی چارہ نہ تھا` اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو پھر آپ کا یہ قول نعوذباللہ باطل ہو جاتا ہے کیونکہ آپﷺ " لوکان " کہہ کر اور موسیٰ کے ساتھ عیسیٰ کو ملا کر دونو ں نبیوں کی وفات کی خبر دیتے ہیں- پس نبی کریم ﷺکی شہادت کے بعد کس طرح کوئی شخص آپﷺ کی امت میں سے کہلا کر یہ یقین رکھ لکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اگر وہ زندہ ہیں تو آنحضرتﷺکی صداقت اور آپﷺ کے علم پر حرف آتا ہے- کیونکہ آپﷺ تو ان کو وفات یافتہ قرار دیتے ہیں- رسول کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپﷺ نے حضرت فاطمہؓ سے اس مرض میں جس میں آپﷺ فوت ہوئے` فرمایا کہ ان جبریل کان یعارضنی القران في كل عام مرة و انه عارضني بالقران العام مرتین و آخبرنی ان عیسی ابن مریم عاش عشرین و مائة سنة ولا ارانی الآذاهبا على رأس الستین۔یعنی جبرائیل ہر سال ایک دفعہ مجھے قرآن سناتے تھے مگر اس دفعہ دودفعہ سنایا ہے اور مجھے انہوں نے خبردی ہے کہ کوئی نبی نہیں گذرا کہ جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی ہوئی ہو اور یہ بھی انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ عیسی بن مریم ایک سو بیس سال کی عمر تک زنده رہے تھے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہوگی۔اس روایت کا مضمون الہامی ہے کیونکہ اس میں رسول کریم ﷺ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں بیان فرماتے بلکہ جبرائیل علیہ السلام کی بتائی ہوئی بات بتاتے ہیں جو یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال کی تھی۔پس لوگوں کا یہ خیال کہ آپ بتیس تینتیس سال کی عمرمیں آسمان پر اٹھائے گئے تھے غلط ہوا کیونکہ اگر حضرت مسیح ؑ اس عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے تھے تو آپ کی عمر بجائے ایک سو بیس سال کے رسول کریم ﷺکے زمانے تک قریبا چھ سو سال کی بنتی ہے اور اس صورت میں چاہئے تھا کہ رسول کریم ﷺ کم سے کم تین سو سال تک عمرپاتے مگر آنحضرت ﷺ کا تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہو جان اور الہاماً آپ ؐکو بتایا جانا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہو گئے ثابت کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور آسمان پر آپ کا بیٹھا ہو نا رسول کریم ﷺ کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے اور آپ ؐکے الہامات اسے رد کرتے ہیں اور جب امرواقع یہ ہے تو ہم لوگ کسی کے کہنے سے کس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کے قائل ہو سکتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو چھوڑ سکتے ہیں۔