انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 340

۳۴۰ دعوة الا میر بیٹھا ہے جسے مسیحی خدا کا بیٹا کہہ کر خدائے قیوم کی ہتک کرتے ہیں اگر ہمیں علم نہ ہوتا تو بیشک ہم ایسی بات کہہ سکتے تھے` مگر جب خدا کے فرستادہ نے ہماری آنکھیں کھول دیں اور اس کی توحید اور اس کے جلال اور اس کی شوکت اور اس کی عظمت اور اس کی قدرت کے مقام کو ہمارے لیے ظاہر کر دیا تو اب خواہ کچھ بھی ہو ہم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی بندہ کو اختیار نہیں کر سکتے اور اگر ہم ایسا کریں تو ہم جانتے کہ ہمارا ٹھکانا کہاں ہوگا کیونکہ سب عزتیں اور سب مدارج اسی کی طرف سے ہیں` ہمیں جب صاف نظر آتا ہے کہ مسیح کی زندگی میں ہمارے رب کی ہتک ہے تو ہم اس عقیدہ کو کیونکر صحیح سمجھ تسلیم کر لیں اور گو ہماری سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ کیوں مسیح کی وفات ماننے سے اس کی ہتک ہو جاتی ہے جب اس سے بڑے درجہ کے نبی فوت ہوگئے اور ان کی ہتک نہ ہوئی تو مسیح علیہ السلام کے فوت ہو جانے سے ان کی ہتک کس طرح ہو جائیگی` لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی وقت ہمیں اس بات سے چارہ نہ ہو کہ یا خدا تعالیٰ کی ہتک کریں یا مسیح علیہ السلام کی تو ہم بخوشی اس عقیدے کو تسلیم کرلیں گے جس سے مسیح علیہ السلام کی ہتک ہوتی ہو مگر اس کوہر گز تسلیم نہیں کریں گے جس میں خدا تعالیٰ کی ہتک ہوتی ہو اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام بھی جو اللہ تعالیٰ کے عشاق میں سے تھے کبھی گوارا نہ کریں گے کہ ان کی عزت تو قائم کی جائے اور اللہ تعالیٰٰ کی توحید کو صدمہ پہنچایا جائے` لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ ولاالملئکة المقربون- ) ہم خدا کے کلام کو کہاں لے جائیں اور جس منہ سے وکنت علیھم شھیداما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم وانت علیٰ کل شی ء شھید ) ( کی آیت پڑہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے خود حضرت مسیح ناصری کی زبانی بیان فرمایا ہے کہ مسیحی لوگ مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد بگڑے ہیں- ان کی حیات میں وہ اپنے سچے دین پر ہی قائم رہے ہیں` اسی منہ سے یہ کہیں کہ حضرت مسیح ؑ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں` ہم خدا تعالیٰ کے کلام یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامہ ) ( کو کس طرح نظر انداز کر دیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع ان کی وفات کے بعد ہوا` بیشک وہ جو خدا سے زیادہ فصیح زبان جاننے کے دعویدار ہیں کہہ دیں کہ اس نے متوفیک کو جو حضرت مسیح ؑ کی وفات کی خبر دیتا ہے پہلے بیان کر دیا ہے اصل میں رافعک پہلے چاہیے تھا` مگر ہم تو اللہ تعالیٰ کے