انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 302

۳۰۲ تھیں کہ جو یا تو اس وقت سے تعلق رکھتی تھیں یا ایسی غلط بنیاد پر تھیں کہ قائم نہ رہ سکتی تھیں۔سوراج ایک سال کے اند ر نا ممکن تھا مثلاً یہ کہنا کہ سوراج ایک سال کے اندر اندر مل جائے گا اس کا کو کی یقین ہی نہیں کر سکتا تھا سوائے ان لوگوں کے جو سیاسیات میں دخل نہیں رکھتے تھے۔ان ایام میں کئی جوشیلے طالب علموں نے مجھ سے پوچھا کہ ایک سال میں سوراج مل جانا کیوں نا ممکن ہے؟ اس وقت ان کو سمجھانا مشکل تھا۔مگر میں دیکھتا تھا کہ یہ بات غلط ہے اور ضرور غلط ثابت ہوگی۔جرمنی کی حکومت کو کئی سلطنتیں مل کر مٹانا چاہتی تھیں اور اس کے لئے پانچ سال صرف ہوئے اور پھر بھی اس کے سارے ملک پر اتحادی قبضہ نہ کر سکے۔جب وہ حکومت نہ مٹ سکی تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ ایسی حکومت جس نے جرمنی پر فتح حاصل کی اس کو ایک سال میں ہندوستانی ہندوستان سے نکال دیں۔پھر کیوں یہ کہا گیا کہ ایک سال میں سوراجیہ حاصل ہو جائے گا۔بات یہ ہے کہ لمبے وعدہ پر لوگ کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اتنے سال کون قربانی کرے مگرا یک آدھ سال کے لئے اگر کہا جائے تو زمیندار بھی کہہ دیتے ہیں کہ چلو اس سال کھیتی نہ کی تو نہ سہی اور جو کہا جائے ماننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اسی لئے سوراج کے حصول کے لئے ایک سال کا عرصہ رکھا گیا جس کانتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں بڑا جوش پیدا ہوگیا اور انہوں نے اس قدر قربانیاں کیں جو اس سے پہلے کبھی نہ کی تھیں مگر جب سال ختم ہوگیا اور سوراجیہ نہ ملا تو ان میں مایو سی پیدا ہو گئی۔اس وقت کہا گیا کہ سوراجیہ کے لئے کچھ شرطیں تھیں جن کو پورا نہیں کیا گیا اس لئے وہ حاصل نہیں ہوا اگر چہ جب اعلان کیا گیا تھا اس وقت کوئی شرطیں نہ لائی گئی تھیں۔بعد میں لگائی گئیں مگر لگائی گئیں۔اس وقت بھی ۹۰ فیصدی لوگ یہی سمجھتے رہے کہ کوئی شرط نہیں ہے اور جو شرطیں لگائی گئی تھیں وہ ایسی تھیں کہ خود شرطیں لگانے والے بھی یہی سمجھتے تھے کہ وہ اتنے قلیل عرصہ میں ہرگز پوری نہیں ہو سکیں گی۔مثلا ًکہا گیا کہ اگر سارا ملک تیار ہو جائے تو سوراجیہ مل جائے گا مگر یہ ایسی شرطیں تھیں جو کبھی پوری نہ ہو سکتی تھیں۔ان تھوڑے عرصہ میں تو سلطنتیں بھی کسی ملک کے سارے لوگوں کو ایک کام کے لئے تیار نہیں کر سکتیں پھر یہ لوگ کس طرح کر سکتے تھے۔انگریز پانچ سال کے عمر میں اپنے ملک کے صرف ایک حصہ کو جبری بھرتی کے لئے تیار کر سکے پھرسوراجیہ حاصل کرنے والے سارے ہندوستان کو اتنے عرصہ میں کس طرح تیار کر سکتے تھے۔مگر یہ جانتے ہوئے انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ایک سال میں سو راجیہ حاصل