انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 269

۲۶۹ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلی علی رسوله الكريم مجاہدین علاقہ ارتداد سے خطاب (فرمودہ ۱۴- ستمبر ۱۹۳۳ء) آج اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت ہماری جماعت کا تیسرا وفد یعنی تیسرے وقت کا وفد علاقہ ارتداد میں جا رہا ہے۔کہتے ہیں کہ تین کا عد د مکمل ہوتا ہے اس لئے کہ وہ طاق بھی ہوتاہے اور پھر اپنے اندر اتحاد بھی رکھتا ہے۔طاق ہونے کی وجہ سے خدا تعالی ٰکی ذات سے اشتراک رکھتا ہے اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ و ترہے اور اس وتر کو پسند کرتاہے۔تین کا عدد دونوں باتوں کو جمع رکھتا ہے۔تین وتر ہے اس لئے ایک سے مشابہ ہونے کی وجہ سے وحدانیت پر دلالت کرتا ہے۔اس میں دو بھی ہیں اور ایک بھی اس لئے اجتماع پر دلالت کرتا ہے۔کیا تعجب ہے کہ اس تین پر ہی خدا تعالی ٰاس جنگ کا خاتمہ کر دے اور چوتھے وقت میں اس صورت میں وفد نہ بھیجنا پڑے۔یہ فال کے طور پر کہا گیا ہے ورنہ مومن کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جنگ ختم ہو جائے کیونکہ مومن جب تک زندہ ہے، جنگ چلی ہی جائے گی۔پس ہم یہ تو نہیں چاہتے کہ جنگ ختم ہو جائے اور کبھی بھی نہیں کہہ سکتے کہ جنگ ختم ہو گئی کیونکہ مسلمان کے لئے جنگ کے ختم ہو جانے کے یہ معنی ہوں گے کہ وہ ہتھیار ڈرلتا ہے ورنہ اس کی جنگ کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔وجہ یہ ہے کہ مسلم کی جنگ شیطان سے ہے اور جب تک دنیا ہے شیطان بھی رہے گا۔چنانچہ آتا ہے۔جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا إلى يوم القيمة ؟ پس جب قیامت تک کافروں پر غلبہ رہے گا تو یہ معلوم ہوا قیامت تک کافر بھی رہیں گے۔اور جب کافر رہیں گے تو شیطان بھی رہے گا اس لئے اس سے جنگ بھی جاری رہے گی۔اس میں شک نہیں کہ مسیح موعود کے متعلق آیا ہے کہ وہ شیطان کو قتل کرے گا مگر اس کے معنی یہ ہیں کہ مسیح موعود شیطان کا زور توڑ دے گا۔عربی میں قتل کے معنے زور توڑ دینے کے بھی ہیں مثلاً شراب کو قتل کر دینے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اس میں پانی ملا کر اس کے زور کو کم کردیا۔پس مسیح موعود کے متعلق