انوارالعلوم (جلد 7) — Page 229
۲۲۹ فعل سے ہمدردی ظاہر کر دی ہے۔یا یہ کہ کچھ ر قم اس کام میں بطور چندہ کے دید ی ہے۔یقیناً اگر وہ ایسا کریں گے تو اپنے عمل سے ثابت کر دیں گے کہ ان کو اسلام سے کچھ بھی ہمدردی نہیں ہے اور وہ اس کے دکھ کو اپنا دکھ خیال نہیں کرتے اور اس کی ترقی ان کے نزدیک ان کی ترقی نہیں ہے۔صرف اس صورت میں ان کا جوش حقیقی جوش کہلا سکتا ہے اور ان کے ایمان کا ثبوت مل سکتا ہے اگر وہ اس سے بڑھ کر تبلیغ اسلام میں حصہ لیں اور ثابت کر سکیں کہ ان کے دل میں اسلام کی محبت پانی کے اوبال کی طرح جوش نہیں مارتی بلکہ ایک پہاڑ کی طرح راسخ ہے۔بہت سے لوگ حیران ہوں گے کہ اس بات کے حصول کا کیا طریق ہو سکتا ہے لیکن میں ان کو بتاتا ہوں کہ یہ بات بالکل سہل ہے اور وہ اس طرح کہ ہندؤمذہب کا فتنہ صرف یو پی کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا بلکہ اگر مسلمان آنکھیں کھولیں اور دیکھیں تو ہندو ان کی دیوار بدیوار ہندوستان کے ہر صوبہ میں بس رہے ہیں۔اور جس طرح ہمارا یہ فرض ہے کہ یو۔پی کے راجپوتوں کو ارتداد سے بچائیں اسی طرح ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہر ایک شخص ہندوؤں کو خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں مسلمان بنائے۔پس ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ اگر وہ تبلیغ اسلام کے لئے راجپوتانہ نہیں جاسکتا۔تو اپنے شہر کے ایک یا ایک سے زیادہ ہندوؤں کو چُن لے اور ان کو اسلام کی طرف لانے کی کوشش کرے۔اسلام ہمیشہ تبلیغ کے ذریعہ سے پھیلاہےاور ہمارا ذاتی تجربہ ہے اب بھی اس کی یہ طاقت اسی طرح محفوظ ہے جس طرح پہلے تھی۔پس اس امر سے مایوس نہیں ہونا چاہئے کہ یہ کام کس طرح ہو گا۔استقلال اور صحیح ذرائع کے استعمال سے یہ کام بخوبی ہو سکتا ہے اور جو اس کام کو شروع کریں گے وہ دیکھ لیں گے کہ یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں۔اب ایک سوال رہ جا تا ہے اور وہ یہ کہ مسلمان عام طور پر نہ تو اسلام سے ہی واقف ہیں کہ ہندوؤں کے اعتراض کا جواب دے سکیں اور نہ ہندوؤں اور خصوصاً آریوں کے لڑ یچرسے واقف ہیں کہ ان کے سامنے ان کے مذہب کے نقص ظاہر کر سکیں پس وہ تبلیغ کیونکر کریں اور کسی طرح ہندوؤں پر ان کے مذہب کی کمزوری اور اسلام کی برتری ثابت کریں۔اس سوال کا حل میں نے یہ سوچا ہے کہ میں چند ایسے علماء کو جو ان دونوں پہلوؤں سے خوب اچھی طرح واقف ہیں مقرر کر دوں جو تمام ایسے شہروں اور قصبات میں جہاں کے لوگ اس کام کے لئے تیار ہوں جا کر ان دونوں مضمونوں کے متعلق لوگوں کو خوب اچھی طرح واقف کرا دیں۔یہ لوگ تمام ضروری کتب ساتھ لے کر جاویں گے اور ایک جلسہ کرکے بطور لیکچر کے نہیں بلکہ بطوردرس کے