انوارالعلوم (جلد 7) — Page 219
۲۱۹ اس کام کے لئے تیار نہ ہو جائیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ان کے مطالبہ سے زیادہ آدمی اس وقت وہاں جانے کو تیار ہوں گے وقت اتنا نہیں ہے کہ ہم باہر والوں سے خطاب کریں۔ابھی تک باہر سے درخواستیں آئی بھی کم ہیں۔کیونکہ ابھی تک باہر میرے اعلان کی اشاعت کم ہوئی ہے۔ہم پر اللہ تعالیٰٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں ایک نبی کا زمانہ دیا۔بڑے بڑے بزرگ ہوئے ہیں مگر ایک احمدی کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے ایک نبی کا چہرہ دیکھا ہے۔حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانیؒ اپنے تقوی وطہارت سے ایک احمدی سے افضل ہیں مگر ایک پرانے احمدی کو چو یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے ایک نبی کو دیکھا ہے یہ ان پر اس کو فضیلت حاصل ہے۔یہ ایک مستقل فضیلت ہے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کے بعد بزرگوں سے افضل ہیں۔ممبران وفد ثانی کے اسماء پس مجھے ایسے بیس آدمیوں کی ضرورت ہے خواہ انہوں نے اب تک نام لکھوایا ہو خواہ نہ لکھوایا ہو وہ اب اپنے نام پیش کریں جو آج عصر کی نماز کے بعد قادیان سے روانہ ہو جائیں۔وقت جو گذر جائے پھر نہیں آتا ممکن ہے ایک رات جو غفلت کی ہو وہی زنگ لگادے۔پس چاہئے کہ وہ شام سے پہلے پہلے چلے جائیں جو شام سے پہلے جاسکتے ہیں۔وہ بولیں۔اس پر ۱۱۹ درخواستین پیش ہوئیں۔مگر جن احباب کو منتخب کیا گیا ان کے اسماء حسب ذیل ہیں:۔۱۔حضرت مولوی شیخ عبدالرحیم صاحب(سابق سردار جگت سنگھ دفعدار) اتالیق صاحبزادگان حضرت حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کو ٹلہ قادیان دارالامان۔امیروفد ۲۔جناب مولوی چوہدری عبدالسلام خان صاحب فاضل ہندولٹریچر کاٹھ گڑھی۔٣۔جناب منشی غلام نبی صاحب ایڈیٹر اخبار الفضل (حوالدارٹریٹوریل فورس) ۴- جناب مولوی عبد الصمد صاحب پٹیالوی مصنف"نہہ کلنک او تار‘‘ ۵۔مولوی ظل ّ الرحمن صاحب بنگالی مہاجر ۶۔مولوی محمد امین صاحب تاجر کتب قاریان مہاجر ۷۔۔مولوی رحمت علی صاحب بنگالی مہاجر ۸- مفتی عبد القادر صاحب کپور تھلوی مہاجر