انوارالعلوم (جلد 7) — Page 206
۲۰۶ ہے کہ جو بگڑے ہوۓ چشمہ کی طرح ہیں ان میں سورج ڈوب رہا ہے۔کسی وقت ان کے پاس مصفّی پانی تھا مگر اس وقت خراب ہو گیا ہو گا اور ان کی تعلیم بالکل بگڑ چکی ہوگی۔وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا۬ؕ ایسی بگڑی ہوئی تعلیموں کے پاس ایسی قوم کو پائے گا۔زمانہ کے حالات کے ماتحت کہہ سکتے ہیں کہ اس قوم میں ہندو بھی شامل ہیں۔حضرت مسیح موعود نے ان کو بھی اہل کتاب قرار دیا ہے مگر ان کے متعلق ایک بات رہ جاتی ہے اور وہ سورج کے ڈوبنے کی ہے کہ پھر ان میں سورج کس طرح ڈوبا اس کے متعلق اگر ظاہری معنی لئے جائیں تو یہ ہیں کہ ہندو بھی مغرب سے ہی آئے ہیں۔پھر سورج ڈوبنے سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس قوم کا خاتمہ اور انتہاء ہو جائے گی ان کا چشمہ گندا ہو چکا ہو گا نو ر اور معرفت مٹ چکی ہوگی۔قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا۔اللہ تعالیٰٰ نے ذوالقرنین کو کہا چاہے توتران کو عذاب دے۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ چاہے تو انکے لئے عذاب کی دعاکر اور چاہے تو ان کو ہدایت دے سید ھارستہ بتلا۔الاما من ظلم وتعنيه ثم يزالی رته فيعذبه عذاب انگڑا۔وہ کہے گاجو کوئی ظلم کرے گا اسے عذاب دیا جائے گا پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا اور اسے عذاب ملے گا۔قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرً وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اﰳلْحُسْنٰىۚ ا اور جو کوئی ایمان لائے گا اور اچھے عمل کرے گا مسیح موعود ان کے لئے دعا کرے گا اور ان کو اچھا بدلا ملے گا۔وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرً اور وہ ان کو کہے گا آسان اور اچھی بات جو ہم اسے کہیں گے۔یعنی دوسرے لوگ تو کہیں گے کہ کافروں کو تلوار سے قتل کردینا چاہے مگر وہ کہے گا: نرمی سے معاملہ ہونا چاہئے۔ہاں اگر کوئی ظالم تلوار اٹھاتا ہے تو اس کے مقابلہ کے لئے تم بھی تلو ار اٹھاؤ۔۔ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا(89)حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًا پھر وہ ایک اور قوم کی طرف جائے گا جو اس جگہ ہوگی جہاں سے سورج چڑھتا ہو گا اور وہ دیکھے گا کہ اس قوم اور سورج کے درمیان کوئی روک نہیں۔حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد مسلمان ہیں ان کا چشمہ تو خراب نہیں ہوا اور سورج چڑھاہواہے یعنی قرآن کریم موجود ہے مگر یہ ظاہر پرست ہو گئے ہیں اصل فائدہ نہیں اٹھاتے۔۲ پھر اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ جب سورج چڑھتا ہے تو گرمی سے تکلیف بھی ہوتی ہے اور