انوارالعلوم (جلد 7) — Page 146
۱۴۶ علوم تعمیروسنگ تراشی و مصوری (۲۶) چھبیسواں علم ، تعمیر کا علم ہے۔اس علم کے تین حصے ہیں۔ایک یہ کہ عمارت کس طرح بنانی چاہئے۔پھر اس کی مختلف شاخیں ہیں۔بنیادیں کس طرح بھرنی چاہئیں۔مختلف اونچائیوں کے لحاظ سے کس قسم کا مصالحہ استعمال کیا جائے۔عمارت کس طرح مضبوط ہو۔مختلف آفات بارش، زلزلہ ،بجلی وغیرہ سے کس طرح حفاظت ہو یہ خود ایک وسیع علم ہے اور اس کے لئے خاص قسم کے انجینئرنگ کے کالج ہیں۔دوسرا حصہ اس علم کا تاریخ تعمیر ہے۔اس میں یہ بیان ہو گا کہ کس طرح فن تعمیر میں ترقی ہوئی؟ تیسرا حصہ اس علم کا یہ ہے کہ تاریخ تعمیر کے ساتھ مختلف اقوام کے فن تعمیر کا مقابلہ کیا جائے۔ہندوستانی کیسے بناتے تھے، عربوں کا فن تعمیر کیسا تھا۔دونوں میں کیا فرق تھا، کون بہترتھا، دوسرے ملکوں میں اس فن نے کیا ترقی کی تھی، ان کا باہم مقابلہ کر یا پھر کس قوم نے کس سے کیا سیکھا۔یہ ایک وسیع تار یخ تعمیر ہے اور بہت دلچسپ ہے۔(۲۷) ستائیسواں علم۔سنگ تراشی اور مجسمہ سازی ہے۔پتھروں کو دوسری شکلوں میں تراشنا اور ان سے انسانوں‘ حیوانوں یا دوسری چیزوں کے مجسمے یا بت بنانا۔اس کی بھی دو شاخیں ہیں۔ایک خود سنگ تراشی دوسرے تاریخ ِسنگ تراشی۔سنگ تراشی کی تاریخ میں مختلف فرقوں نے اس فن میں کیا کیا ترقیاں کیں اور کس کس طرح اس فن میں ترقی کی۔اس کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔(۲۸) اٹھائیسواں علم مصوّری ہے اور اس مصوّری میں تین چیزیں داخل ہیں۔نفسِ مصوّری - تاریخ ِمصوری اور فلسفہ تصویر۔نفس مصوّری میں تو یہی بحث ہوگی کہ مصوّر کی کیا ضروریات ہیں۔کس قسم کا سامان اس کے پاس ہونا چاہئے۔اور تصویر کے وقت کن باتوں کو اسے مد نظر رکھنا چاہئے جس سے تصویر میں خوبی اور اثر پیدا ہو۔یہ بہت وسیع علم ہے اور ایک خاص فن ہے۔مصوّر انسانی جذبات اور کیفیات کو مجسم کر کے دکھادیتا ہے۔مثلا ًرنج و راحت ،افسردگی کے نظارے نہایت عمدگی سے دکھادیتا ہے۔ایسا ہی دنیا کے فانی ہونے کی تصویر جب ایک لائق مصور کھینچ کر دکھائے گاتو طبیعت پر نقش ہو جاتا ہے۔شاعر