انوارالعلوم (جلد 7) — Page 107
۱۰۷ نجات ہیں کہ وہ گائے کی شکل میں رہیں تو اول تو کسی کو ان کے ذبح کرنے پر قدرت ہی نہیں ہونی چاہئے اور اگر یہ قدرت ہو تو چاہئے کہ وہ پھر جلد سے جلد دوباره جنم گائے کی شکل میں لیں اور جس جگہ گائیں زیادہ ذبح ہوں وہاں گائیوں کی اولاد بہت بڑھ جائے اور جلدی جلدی بچے ہونے لگیں۔مگر یہ درست نہیں جس قدر جانورذبح کئے جائیں وہ اپنی مدت پوری کرنے کے لئے واپس نہیں آتے بلکہ کہیں غائب ہو جاتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ تناسخ کا عقیدہ بالکل عقل کے خلاف اور قانون قدرت کے مخالف ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس خلاف عقل عقیدہ کو مان کر اس کے ماننے والوں نے عجیب عجیب خلاف عقل باتوں کو تسلیم کیا ہے جس پر ایک عقلمند انسان سواۓ افسوس کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔چنانچہ بدھوں میں سے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بدھ متعدد دفعہ مختلف جونوں میں اس دنیا میں آیا ہے۔چنانچہ چار دفعہ اس نے برہما کاجنم لیا ،بیس دفعہ اند ر کا، ایک بار خرگوش کا،تراسی بار سنیاسی کا، اٹھاون مرتبہ بادشاہ کا ،چوبیس مرتبہ برہمن کا، ایک بار قمار باز کا، اٹھارہ مرتبہ بند رکا، چھ بار ہاتھی کا،گیاره مرتبہ ہرن کا، ایک مرتبہ کتے کا، چار بار سانپ کا ،چھ مرتبہ چوہے کا، ایک بار مینڈک کا، دو مرتبہ مچھلی کا، پینتالیس باروہ درخت بنا،دو مرتبہ سور اور دو مرتبہ چوروغیرہ وغیرہ۔یہ تاریخ بدھ جی کی جیسی قابل مضحکہ، قابل نفرت، قابل نفرین ہے خودہی ظاہر ہے ایک نیک اور پاکباز بزرگ انسان کی نسبت اس قسم کی تاریک تاریخ منسوب کرنے کی جرأت صرف تناسخ کے عقیدہ نے دلوائی ہے ورنہ ہرگز ممکن نہ تھا کہ کوئی امی جرأت کرتا- ان لوگوں کو اگر کہا جائے تمہارا باپ سؤر ہے تو فور اً لڑپڑیں لیکن ایک مقدس بزرگ کو سؤ ربنانے سے نہیں شرماتے۔کیا نجات مل جانے پر اعمال کی ضرورت نہیں رہتی: اب میں اس سوال کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں کہ کیا نجات مل جانے پر عمل چھوٹ جاتے ہیں۔مثلا ًجس طرح جب بیمار اچھا ہو جاتا ہے تو علاج چھوٹ جاتا ہے۔کیا اسی طرح جو نجات حاصل کرلیتا ہے اس کو اعمال کی ضرورت نہیں رہتی ؟اس کا جواب یہ ہے کہ اس سوال سے بہت بڑا نقصان لوگوں کو پہنچا ہے۔ہندو کہتے ہیں کہ اگر نجات مل جائے تو اسی دنیا میں عمل چھٹ جائیں گے۔اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ رشی چونکہ نجات یافتہ ہوتے ہیں اس لئے وہ خواہ کچھ کریں ان پر کوئی دوش نہیں ہو تا اور ہر بات ان کے لئے جائز ہو جاتی ہے۔بعض نادان مسلمان کہتے ہیں ایک شریعت ہے اور ایک طریقت۔شریعت کے چکر میں جو پڑاہو