انوارالعلوم (جلد 7) — Page 99
۹۹ نجات بڑے اجر کے ساتھ فضیلت دی ہے۔اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف وہ لوگ مجاہدوں سے درجہ میں کم ہوں گے جو طاقت رکھتے ہوئے سستی کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو طاقت نہیں رکھتے وہ اگر دل سے خواہش رکھتے ہوں تو اللہ کے رستہ میں جہاد کرنے کے لئے نکلنے والوں کے برابرہی ہیں۔پس معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ پر ایک انسان کی مجبوریوں کو مد نظر رکھے گا اور ان کا لحاظ رکھ کر بدلہ دے گا۔حدیثوں میں اس کی تصریح موجود ہے۔چنانچہ بخاری اور مسند احمد میں انسؓ کی روایت ہے کہ ان بالمدینة اقواما ماسرتم من سير ولا قطعتم من وادا الا وهم بالمدینة يارسول الله قال حبسهم العذر ۵۰ یعنی ایک دفعہ رسول کریم ﷺ ایک جنگ کے لئے جارہے تھے راستہ میں آپ نے فرمایا کہ کچھ لوگ مدینہ میں ایسے ہیں کہ تم کوئی سفرطے نہیں کرتے اور نہ کوئی وادی طے کرتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں (یعنی تمہارے برابر ثواب پا لیتے ہیں) صحابہ ؓ نےکہایا رسول الله باوجود اس کے کہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہیں؟ آپ ؐنے فرمایا ہاں کیو نکہ ان کو عذر نے روکا ہوا ہے (ور نہ دل سے وہ چاہتے تھے کہ جنگ میں ساتھ جائیں) اس حدیث سے کسی وضاحت سے ثابت ہوا ہے کہ اسلام کے نزدیک اختلاف حالات کو سزاء جزادیتے وقت اللہ تعالیٰٰ مد نظر رکھے گا۔حتی ٰکہ ایک اگر عذر کی وجہ سے گھر بیٹھ رہتا ہے تو وہ انہی لوگوں کے ساتھ سمجھاجاتا ہے جو جہادمیں حصہ لیتے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖؕ-مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ الله تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو ان احکام کو پورا کرنے کی جو لوگ طاقت نہیں رکھنے ان سے پوچھا نہیں جائے گا اور نہ ان سے جو مریض ہوں اور نہ ان سے جن کے پاس روپیہ نہیں جب کہ ان کے دل میں نیت ہو کہ اگر یہ عذر نہ ہوں تو ہم بھی ایسا ہی کریں۔اسی طرح آتا ہےلن ینال الله لحومها ولا دماؤها ولكن يناله التقوی منکم *۵۷۔پہلی آیت میں جن عذروں کا ذکر ہے وہ جسمانی ہیں۔اس آیت میں مالی کمزوریوں کے متعلق فرماتا ہے یہ نہ سمجھنا کہ فلاں نے اتنا مال دیا ہے اور ہم نے اس سے اتنازیا دہ دیا ہے خدا کو مال نہیں پہنچتا بلکہ وہ چیز پہنچتی ہے جو دلوں میں ہوتی ہے۔جس کے پاسن تقوی ہو اس کی اٹھنی بھی