انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 98

۹۸ نجات مقدرت کا الزام کہاں باقی رہا۔مدارج کے اختلاف کا جو اثر عمل پر پڑتا ہے یا سمجھ پر پڑتا ہے اس کا خدا تعالیٰ اندازہ کرکے ہی جزاءدیتاہے۔مقدرت کا فرق تب اعتراض بنا کہ اگر فیصلہ خدا تعالی ٰنے جو ذره ذره کو جانتا ہے نہ کرنا ہوتا بلکہ انسانوں نے کرنا ہوتا جو بوجہ علم کی کمی کے صحیح موازنہ نہیں کر سکتے کہ کسی شخص کے کاموں میں کہاں تک اس کے حالات کا دخل ہے اور کہاں تک اس کے اپنے ارادہ کا دخل ہے۔در حقیقت یہ اعتراض پیداہی اللہ تعالیٰ ٰکی طاقتوں کے غلط اندازہ سے ہوا ہے اگر خدا تعالیٰ کی صفات کو مد نظر رکھا جاتا اور انسان کی طاقتوں پر اس کی طاقتوں کا خیال نہ کیا جاتا تو یہ دھوکا کبھی نہیں لگ سکتا تھا۔پس یہ درست ہے کہ انسانوں کی حالتوں میں اختلاف ہے۔ایک کمزور، ایک طاقتور، ایک اعلیٰ علمی قابلیتوں والا ایک موٹے دماغ کا ،ایک بہت سے سامان رکھتا ہے،۔ایک تہی دست ہے، ایک ایسے لوگوں میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت یافتہ ہیں، ایک ایسا ہے جو گمراہوں میں پیدا ہوتا ہے لیکن ساتھ یہ بھی درست ہے کہ جس طرح ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ مختلف لوگ مختلف حالات میں پیدا ہوتے ہیں یہ بات اس پیدا کرنے والے کو بھی معلوم ہے اور ہم سے بڑھ کر معلوم ہے۔اور پھر مزید برآں یہ بات ہے کہ وہ ان تمام اختلافوں اور ان کے اثر کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کس کو کس قدر اور کس قسم کابدلہ دینا چاہئے۔پس یہ اعتراض کوئی اعتراض نہیں۔اس امر کی مثالیں کہ ان طبعی روکوں کا جن کو انسان نے پیدا نہیں کیا لحاظ رکھ لیا جائے گا قرآن کریم اور احادیث سے بہت سی ملتی ہیں۔ایک دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ-فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةًؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةًؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۵۴ مومنوں میں سے ایسے شخص جن کو کوئی طبیعی روک نہیں اور باوجود اس کے گھروں میں بیٹھ رہتے ہیں اور وہ جو خدا تعالی ٰکے راستہ میں مالوں اور جانوں کی قربانیاں کرتے ہیں برابر نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ ٰنے ان لوگوں کو جو اپنے مالوں اور جانوں کو خدا کی راہ میں قربان کرتے ہیں مذکورہ بالا قسم کے گھر بیٹھ رہنے والوں پر درجہ میں بلند کیا ہے اور ہر اک سے اللہ تعالیٰ نے نیکی کا وعدہ کیا اور اللہ نے مجاہدوں کو گھر بیٹھنے والوں پر بہت