انوارالعلوم (جلد 7) — Page 95
۹۵ نجات اعلیٰ مقاصد اور ترقی کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے اچانک مرجاتے ہیں اور ان کے اچھے کام بغیر ختم ہونے کے درمیان ہی میں رہ جاتے ہیں۔اگر زندگی کا کوئی مقصد ہے تو اس کا کیا مطلب ہے اور کیا توجیه؟ ان اختلافات کی تین وجہیں بیان کی جاسکتی ہیں۔(۱) انسان اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے اس حالت اختلاف میں پیدا کیا جاتا ہےیہی اس کی وجہ ہے۔(۲) یا یہ کہ یہ اختلاف والدین سے ورثہ ملتاہے۔(۳) پچھلے اعمال کا نتیجہ ہے۔ان توجیہوں میں سے کوئی درست ہے؟ ان میں سے پہلی اور دوسری بات کے متعلق ہم کہتے ہے کہ یہ قانون قدرت کے خلاف ہیں کیونکہ ان کا یہ مطلب نکلتا ہے کہ گویا انسان کو اپنے اعمال پر مقد رت نہیں ہے۔اگر خدا نے انسان کو ان مختلف حالتوں میں بلا سبب پیدا کر دیا ہے یا انسان کو تفاوت ماں باپ سے ورثہ میں ملتا ہے تو اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ انسان کو اپنے اعمال پر قدرت نہیں کیونکہ خدا کا فعل یا اس کے ماں باپ کی حالت اسے بعض خاص حالتوں پر مجبور کر کے چلاتی ہے۔اگر یہ بات درست ہے تو پھر اس کو سزا کیوں ملے گی؟ جب خدا نے ایک انسان کو اچھا یا برا بنایا تو پھر اس کی جزاء یا سزا کیسی؟ ایک شخص کو خدا نے شریروں میں پید کیا اور وہ شریر ہوا۔ایک کو نیکوں میں پیدا کیا وہ نیک ہوا پھرایک کو سزا اور دوسرے کو انعام کیسا؟ آپ ہی اچھا یا برا پیدا کیا پھر یہ عجیب بات ہو گی اگر سزا بھی اور انعام بھی دے گا اور اگر کہا جائے کہ خود انہیں ایسا پیدا کرتا بلکہ یہ باتیں اسے ورثہ میں ملتی ہیں۔تب بھی اس کے یہی معنی ہوں گے کہ انسان مجبوری کی حالت میں ہے اور جب وہ مجبور ہے تو اس پر الزام کیسا؟ اور اس کے لئے انعام یا سزا کیوں؟ کیونکہ اعمال میں اس کا دخل ہی نہ تھا۔دوسرا اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا ماننے سے خدا کے انصاف پر الزام آتا ہے کہ کیوں اس نے اپنے بندوں میں تفاوت کیا۔اس کا تعلق چاہتا تھا کہ وہ سب سے ایک ساہی معاملہ کرتا۔تیسرا اعتراض یہ ہے کہ ہر بات جو اس دنیا میں ہمیں نظر آتی ہے وہ بلا سبب نہیں پس یہ کہہ دینا کہ یہ تغیرّ اس لئے ہے کہ خدا نے یونہی چاہا درست نہیں۔کوئی ظاہری یا عقلی سبب اس کا موجود ہونا چاہئے جو سوائے تناسخ کے اور نہیں ہوسکتا۔