انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 94

۹۴ نجات دنیا کے علاوہ اور جنمیں بھی ہیں جہاں انسان دو جوانوں کے درمیان رکھا جاتا ہے۔برہمن مذہب کے نزدیک اعمال کے اثر سے انسان دنیا میں آتا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ ان کے نزدیک بھی علاوہ اس دنیا کے اور مقامات بھی عذاب کے ہیں۔ان میں اور جینیوں اور بد ھوں میں یہ فرق ہے کہ جینی مادہ کے بوجھ کے سبب سے ہر خواہشات کے سب سے اس دنیا میں آنامانتے ہیں لیکن بر ہمن مذ ہب والے اعمال کی جزاء کے لئے واپسی مانتے ہیں اور خدا تعالی ٰکی طرف اسے منسوب کرتے ہیں۔یورپ کے نئے لوگ بھی تناسخ کے تو قائل ہیں لیکن وہ اسے عذاب نہیں قرار دیتے بلکہ اس کو ترقی کا میدان سمجھتے ہیں پس ان کے نزدیک نجات میں مل جاتی ہے۔یہودی مذہب عیسائیت‘ زرتشتی مذہب اور اسلام یہ پاگذاہب ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ انسان اس دنیا میں اعمال کر جا اور اس کالی بدلہ اکئے جان میں اس کو ہے گو جزاءاسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے۔تناسخ ان خلاصوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے مذاہب میں سے ایک معتد بہ حصہ اس امر کا قائل ہے کہ انسان عذاب اس دنیا میں تناسخ کی شکل میں پالیتا ہے۔پس اس عقیدہ پر ایک تنقیدی نظرڈالنا ضروری ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ جو مذاہب تناسخ کو مانتے ہیں وہ کہتے ہیں انسان جو مختلف حالات میں پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً کوئی امیر ہوتا ہے کوئی غریب، کوئی صحیح و سالم ہوتا ہے کوئی لنگڑا لولا ،کوئی عقلمند ہوتا ہے کوئی بے وقوف، کوئی چست ہوتا ہے کوئی سست ، کوئی طاقت ور ہوتا ہے کوئی کمزور، غرض انسانوں کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں اور بلحاظ جسم، عقل اور متعلقات کے انسانوں میں فرق ہوتا ہے۔یعنی بعض طاقتور ہوتے ہیں اور بعض کا جسم کمزور ہوتا ہے، بعض کی عقل تیز ہوتی ہے اور بعض کی کمزور،بعض مالدار ہوتے ہیں، بعض غریب، پھربعض بیماروں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں بعض تند رستوں کے ،بعض عالموں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں بعض جاہلوں کے ،بعض مالداروں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں بعض غریبوں کے، غرض یہ تین قسم کے تفاوت یعنی جسمانی، عقلی اور مالی ہمیں بنی نوع انسان میں ملتے ہیں یہ تو ابتداء کا حال ہے۔درمیانی زندگی میں بھی ہمیں کئی تفاوت نظر آتے ہیں۔بعض لوگ بلا سبب اور بلاوجہ ناکا میابی کا منہ دیکھتے ہیں بعض معمولی کوشش سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔انجام میں بھی یہی تفاوت ہے بعض لوگ اپنے کاموں کو ختم کرکے مرتے ہیں۔بعض لوگ