انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 50

ہولیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اسلام مٹ رہا ہے۔لیکن اگر ان کا اسلام نہ مٹے جس کے ایسے تنگ دل محافظ ہوں تو کیاہو۔پس وہ اس پر خوش ہیں کہ ہم نے کسی پر اعتراض کردیا۔اور سننے والے خوش ہوگئے ان کو معلوم ہی نہیں کہ تحقیق و تنقید کے اب کیسے کیسے ذرائع معلوم ہوئے ہیں جن کے مقابلہ میں یہ لوگ دم نہیں مارسکتے۔وہ جانتے ہی نہیں کہ واقعات کی رَو کدھر چلی رہی ہے اور ان کو معلوم ہی نہیں کہ کسی چیز کی صداقت معلوم کرنےکے کیا ذرائع ہوا کرتے ہیں۔ان کو معلوم ہی نہیں کہ اعتراض تو ہر چیز پر ہوتے ہیں۔مگر موازنہ کیا جاتا ہے کہ اعتراض کثیر ہیں اور معقول ہیں یا نہیں اور اُصول کے مطابق خوبیاں زیادہ ہیں یا نہیں۔جدھر کثرت ہوتی ہے اس کو تسلیم کیا جاتا ہے۔یہ لوگ ہنسی کرتے ہیں مگر یہ ان کی جہالت کی بات ہے۔گورنمنٹ نے زراعت کا محکمہ بنایا ہے اس کی طرف سے بارش کے متعلق اطلاع شائع ہوتی ہے۔اس میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں اس لئے اور تو اور بعض کونسل کے ممبر تک اعتراض کردیتے ہیں کہ یہ محکمہ اُڑا دیا جائے۔مگر ان کو معلوم نہیں کہ یورپ امریکہ میں یہ محکمہ بہت مفید کام کر رہا ہے اور ہندوستان میں بھی اس سے بہت فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔پس یہ لوگ محدود علم کے مالک ہیں اس لئے خوش ہوتے ہیں ہنسی اُڑاتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں۔ہر نبی پر ہنسی اُڑائی گئی مگر قرآن کریم افسوس کے ساتھ اعلان کرتا ہے۔يٰحَسْرَۃً عَلَي الْعِبَادِ مَا يَاْتِيْہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ(یٰسٓ:۳۱) اے افسوس بندوں پر خدا کی طرف سے ایک بھی نبی نہیں آیا۔جس پر لوگوں نے ہنسی نہ آڑائی ہو۔اب یہ لوگ خوش ہوتےہیں کہمرزا صاحب پر اعتراض ہوگیا۔لیکن وہ بتائیں کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض نہیں ہوئے۔حضرت عیسٰیؑپر سخت سے سخت اعتراض نہیں ہوئے۔حضرت موسیٰؑپر اور دیگر انبیاؑءپر اعتراض نہیں ہوئے۔پس جب تک اُصولی طور پر کسی صداقت کا فیصلہ نہ کیا جائے اس کی صداقت کبھی ثابت نہیں ہوسکتی۔مسلمانوں کی موجودہ حالت اصل سوال تو یہ ہے کہ اب کسی موعود کے آنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔دُنیا خراب ہوچکی ہے۔مسلمانوں کی حالت سخت درجہ بگڑ چکی ہے یا نہیں۔اگر دنیا کی حالت بھی خراب ہے اور اگر مسلمانوں کی حالت بھی بگڑ ی ہوئی ہے تو کیا اب بھی کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔کیا جیل خانوں میں مسلمانوں کی کثرت نہیں۔کیا لاکھوں نہیں کروڑوں مسلمان شراب سے بد مست نہیں ہوتے۔کیا بد اخلاقی میں تمام اقوام سے مسلمان بڑھتے نہیں جارہے۔