انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 47

تھے تو اس میں شرم کی کونسی بات تھی۔مگر ان کو تو کہا کہ مجھے بالکل بھوک نہیں اور گاڑی چلتے ہی بیقراری کا اظہار کرنے لگے۔آخر اس کو کہا کہ کچھ خشک میوہ ساتھ تھا وہ ہے اس نے کہا کہ ہاں ہے۔پیر صاحب نے کھڑکی کے راستہ میوہ کا رومال نوکرسے لے لیا اور رومال کھول کر کھانا شروع کیا۔ساتھ ہی مجھ سے باتیں کرنے لگے کہ آپ کا اسمِ مبارک۔مَیں نے نام بتایا کہا کہ کدھرچلے۔مَیں نے نام بتایا کہا کہ کدھر چلے۔مَیں نے کہا قادیان۔کہا آپ مرزا صاحب کے مُرید ہیں۔مَیں نے کہا۔ہاں۔کہاں آپ رہنے والےکہاں کے ہیں۔مَیں نے بتایا کہ قادیان کا رہنے والا ہوں۔پوُچھا کہ کیا آپ مرزا صاحب سے رشتہ بھی ہے۔مَیں نے کہا کہ ہاں پُوچھا کیا؟ بتایا کہ اُن کا بیٹا ہوں۔پیر صاحب نے کہا اچھا آپ ان کے بیٹے ہیں۔مجھے تو آپ سے ملنے کا بہت ہی اشتیاق تھا۔یہ کہہ کر اپنی جگہ سے اُٹھ کر میرے سامنے آبیٹھے اور میوہ کا رومال میرے سامنے رکھ دیا کہ آپ بھی گائیں۔اگرہ چہ غیرت بھی تقاضا نہیں کرتی تھی۔لیکن مجھے زکام تھا۔اس لئے مَیں نے کہا مجھے زکام ہے۔مَیں یہ نہیں کھائوں گا کیونکہ اس میں ترش میوہ تھا۔پیر صاحب نے کہا کہ یہ سب دکھوسلے ہیں جو کرتا ہے خدا کرتا ہے۔آپ کھائیں تو سہی۔میں نے کہا کہ اوہو پیر صاحب آپ سے بڑی غلطی ہوئی کہنے لگے۔کیا؟ مَیں نے کہا یہ بات آپ کو لاہور کے اسٹیشن پر بتانی چاہئے تھی۔آپ بھی نہ ٹکٹ لیتے اور مَیں بھی نہ لیتا۔مجھے خدا نے قادیان پہنچانا ہوتا تو پہنچا دیتا اور آپ کو امرتسر۔کم ازکم پیسے تو بچتے۔کہنے لگے آخر یہ تو اسباب کی رعایت ہے۔مَیں نے کہا اسی طرح یہ بھی رعایت اسباب ہے۔تب پیر صاحب بولے کہ ہاں یہی میرا مطلب تھا۔مگر کھانے کے لئے پھر اصرار کرتے رہے آخر انہوں نے کہا کہ ان خشک انجیروں کا تو کچھ حرج نہیں آخر مَیں نے بھی اس خیال سے کہ پیر صاحب کہ مجھ سے باتیں کرنے کی علامت میرے پاس رہے انہوں نے جو دو انجیر دئیے تھے وہ مَیں نے جیب میں ڈال لئے۔جو ایک احمدی نے مجھ سے لے لئے کہ پیر صاحب کو یہ بات یاد دلائیں۔لیکن مَیں حیران تھا کہ آخر پیر صاحب میں یہ انتا تغیّر کیسے آگیا اور نکاح کے ٹوٹنے کے فتوے جو انہوں نے دئیے ہوئے ہیں وہ ان کو فراموش کیوں ہوگئے۔اتنے میں پیر ساحب کہنے لگے کہ ایک دین کے معاملہ میں آپ کی مدد ضرورت ہے۔مَیں نے کہا فرمائیے۔کہا کہ ایک احمدی اور ایک شخص کا مقدمہ ہے آپ احمدی کو لکھیں کہ وہ آپس میں صلح کرلیں۔کیونکہ عدالت میں فریقین کو جھوٹ بولنا پڑیگا۔مَیں نے کہا کہ احمدی اگر واقعی احمدی ہے تو وہ جھوٹ بولے گا نہیں۔باقی رہا میرا اس کو خط لکھنا۔سو جب تک مجھے خود معلوم نہ ہو کہ واقعات کیا ہیں مَیں خط کیسے لکھ سکتا ہوں۔انہوں نے بڑا زور دیا کہ آپ لکھ دیں۔مَیں نے کہا کہ جب تک میں جاکر حالات معلوم نہ کروں اس وقت تک میں خط لکھنے کا