انوارالعلوم (جلد 6) — Page 520
درخواست کی گئی کہ وہ اپنے حکم کو منسوخ کردے مگر باوجود درخواستیں کرنے کے گورنمنٹ نے تقسیم بنگالہ کے سوال پر غور کرنے سے انکار کردیا اور وزیر ہند لارڈ کریونے (جن کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ نے بعد میں اپنے کلام کے مطابق کام کروایا ،تو پارلیمنٹ میں صاف کہہ دیا کہ اس فیصلہ کو ہرگز بدلہ نہیں جاسکتا مگر خدا تعالیٰ کیقدت ہے کہ اس نے اپنے کلام کو پورا کرنےکے لئے یہ سامان کیا کہ اے شہزادۂ ذی شان ! آپ کے والد مکرم ہمارے بادشاہ کی تخت نشینی کی تقریب پر یہ تحریک پیدا کردی کہ ان کی تاج پوشی بحیثیت بادشاہ ہندوستان ہونے کے ہندوستان میں بھی ہونی چاہئے۔اور اس طرح اس نے آپ کے والد کو اس امر کے لئے منتخب کیا کہ وہ اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے کلام کو پورا کریں۔چنانچہ آپ کی ہندوستان میں تشریف آوری اور تاج پوشی کی تقریب پر ہندوستان کو جن مراعات کا دیا جانا تجویز ہوا ان میں ایک تقسیم بنگالہ کی منسوخی بھی تھی اورانہوں نے ہزاروں میلوں کا سفر اختیار کرکے دہلی جدید دار الخلافہ میں بذات خود تقسیم بنگالہ کی منسوخی کا اعلان کرکے گویا اس امر کا اعلان کیا کہ حکومتیں اور افراد اللہ تعالیٰ کے نزدیک یکساں ہی جس طرح وہ رعایا پر حکومت کرتا ہے حاکموں اور حکومتوں پر بھی حکم کرتا ہے اور جب وہ کوئی فیصلہ کردے تو خواہ کس قدر ہی بعید از عقل معلوم ہوہو کر رہتا ہے اور یہ کہ حضرت مرزا غلام احمد ؑصاحب بانی سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کے رسول اور ما ٔمور ہیں اور اسلام اس کا بھیجا ہوا دین ہے۔نواں معجزہ : جنگ روس و جاپان آپ کے معجزات میں سے نویں مثال بھی ہم ایک سیاسی معجزہ کی لیتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جس وقت روس اور جاپان کی جنگ چھڑی تو آپ کو الہام ہوا کہ:- ’’ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت ‘‘(تذکرہ صفحہ ۵۱۲حاشیہ ایڈیشن چہارم) جیسا کہ اس الہام کےالفاظ سے ظاہر ہوتا ہے اس میں بتایا گیا تھا کہ جاپان اس جنگ میں فاتح ہوگا اور یہ کہ اس کو اس قدر عظیم الشان فتح حاصل ہوگی کہ کوریا پر قبضہ کرنے کی جو اسے خواہش ہے اسے وہ پوری کرسکے گا۔مگر کوریا والے اسے پسند نہیں کریں گے اور اس ملک میں ایک خطرناک فساد اور فتنہ برپا ہوجائے گا۔اور ملک کی حالت تباہ ہوجائے گی۔گو جس وقت یہ الہام شائع ہو ا ہے اس وقت بڑے سے بڑے سیاسی مدبر اور برسر حکومت لوگ بھی اس قسم کی بات منہ سے نہیں نکال سکتے تھے اور جاپان کی اس قدر عظیم الشان فتح کی نسبت امید باندھنا تو الگ رہا بعض لوگ تو یہ بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ وہ فتح بھی پاسکے گا اور خیال کرتے تھے کہ اب تک روس نے