انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 465

کی بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تحرک کی اورایک معقول تعداد اس کےذریعہ سے اس فتنہ سے الگ رہی اور گو ہر طرح اس کے افراد کو مفسدوں نے نقصان پہنچایا مگر اس نے اپنے رویہ کو نہ بدلا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں اس جماعت کے خلاف اوربھی جوش بڑھ گیا اوربعض علاقوں میں یہ فیصلہ کردیا گیا کہ نہ احمدیوں کو رہنے کے لئے مکان کرایہ پر دئیے جائیں۔نہ کھانے کے لئے اناج وغیرہ مول دیا جائے نہ کنووں پر سے ان کو پانی لینے دیا جائے اورنہ ان کی دکانوں سے کوئی چیز لی جائے۔دھوبی ان کےکپڑے نہ دھوئیں ،سقّے ان کے پانی نہ بھریں اور خاکروب ان کے گھروں کی صفائی نہ کریں اور اس فیصلہ پر اس سختی سے عمل کیاگیا کہ بعض جگہ پر کئی کئی دن چھوٹے چھوٹے بچوں کےلئے بھی پینے کو پانی نہ ملا اورکھانے کو اناج میسر نہ آیا۔مگر پھر بھی اس جماعت نے امن پسندی کے راستہ کو ترک نہ کیا اوراپنی بے لاگ وفاداری کے طریق سے سرِ مُوادھر ادھر نہ ہوئی اوراب تک مختلف طریقوں سے دُکھ دی جاتی ہے مگر ملک معظم کی حکومت کے استحکام کے لئے ہر ممکن طریق سے کوشش کرتی چلی جاتی ہے اور انشاء اللہ کرتی چلی جائے گی۔پس اے شہزدہ والاجاہ! یہ تحفہ اس جماعت کی طرف سے آپ کو سامنےپیش کیا جاتا ہے جس نےجناب کے آباء کے تخت کی حفاظت کے لئے ہر قسم کی تکالیف برداشت کرکے اپنی وفاداری کو روز روشن کی طرح ثابت کر دکھایا ہے اور خون کے حرفوں کے ساتھ اُفق آسمان پر اس کی سنجیدگی اور صداقت اور خلوص کی تصدیق لکھی ہوئی موجود ہے۔پس ایسی جان نثار اور وفادار رعایا کا حق ہے کہ وہ آپ سے درخواست کرے کے اس کے اس تھفہ کو قبولیت کا شرف عطا فرمایا جائےاور صرف رسماً ہی قبول نہ کیا جائے بلکہ کم سے کم ایک دفعہ شروع سے لے کر آخر تک جناب اس کو ملاحظہ فرمائیں اوراپنے مکرم والد کی خدمت میں بھی اس کو پیش کریں اوران کے سامنے بھی اس جماعت کی یہ درخواست پیش کردیں کہ وہ بھی اپنے قیمتی وقت کا ایک حصہ اس کے ملاحظہ کے لئے نکال کر اس کو شروع سے آخرتک ملاحظہ فرمائیں تا خدا تعالیٰ ان کو اسی طرح دین کی بادشاہت بھی عطا فرماوے جس طرح دُنیا کی بادشاہت ان کو عطا کی ہے اور اسی طرح ان کی روح کو بھی بزرگی دے جس طرح ان کے جسم کو بزرگی دی ہے۔اس مؤدبانہ درخواست کے بعد مَیں تمام جماعت احمدیہ کی طرف سے عموماً اوران افراد سلسلہ کی طرف سے خصوصاً جنہوں نے اس تحفہ کے پیش کرنے میں حصہ لیا ہے وہ تحفہ جناب کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جس سے بہتر کوئی چاندی یا سونے کا تحفہ نہیں ہوسکتا۔