انوارالعلوم (جلد 6) — Page 30
دُنیا کی حالت دُنیا میں تغیرات آرہے ہیں جنگوں نے دُنیا کو بے حال کر رکھا ہے اور زلزلوں نے زیرو زبر کردیا ہے۔بیماریاں ہلاکت کے ہاتھ پھیلا رہی ہیں اور یہ عذاب دُنیا کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک دُنیا اصلاح کی طرف نہیں آئیگی۔غور تو کرو کہ خدا رحمٰن و رحیم ہے۔پھر وہ کیوں اس قدر پُر درد عذاب دُنیا پر بھیج رہا ہے۔اگر دُنیا کی حالت اچھی ہو تو خدا کیوں اس کو بھٹی میں ڈالے۔وجہ یہی ہے کہ لوگ خُدا کے ما ٔمور نبی کا انکار کر رہے ہیں اوراب تک کر رہے ہیں۔معمولی بادشاہ یا لیڈر کا حکم ٹالا جائے تو لوگ نقصان اُٹھاتے ہیں۔پھر جب خدا کے ایک ما ٔمور کی ہتک ہو اور خدا کی نافرمانی ہو پھر دُنیا کیسے امن میں رہ سکتی ہے۔دُنیا آج جن عذابوں میں مبتلا ہے۔آج سے چالیس سال پہلے ان عذابوں کانام و نشان نہ تھا۔لیکن آج ایسے عذاب آرہے ہیں کہ لوگ حیران ہیں۔ایک بزرگ کا قول ہے وہ کہتے ہیں کہ جب میرا گھوڑا َڑتا ہے تو مَیں سمجھ لیتا ہوں کہ میں نے خدا کی نافرمانی کی۔کیونکہ اگر مَیں اپنے رب کی نافرمانی نہ کرتا تو میرا جانور میری نافرمانی نہ کرتا۔لیکن آج لوگ اسقدر نفس پرستیوں میں غرق ہیں اسقدر خدا ان کو بُھولا ہوا ہے کہ وہ اپنے گھوڑے کے اَڑنے سے نصیحت کیا لیتے خود اُن پر عذاب کے ہزاروں کوڑے پڑ رہے ہیں۔مگر پھر بھی وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔کیا لوگوں کے دل مر گئے۔کیا ان کے کان میں کسی درد مند کی نصیحت کی آواز نہیں جاتی اور دل پر اثر نہیں کرتی۔نصیحت میں آپ کو درد مند دل کیساتھاور خیر خواہ قلب کے ساتھ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ایمان کی فکر کرو اوراپنی حالت پر غور کرو اپنے اعمال سے اسلام کی ہتک نہ کرو اوراس کو جُھوٹا ثابت نہ کرو۔ذرا اپنی اصلاح کرو۔خدا کی نشانیوں کو غور سے دیکھو۔اسلام کیلئے شرم کا موجب نہ بنو۔بلکہ فخر کا موجب بنو۔اواپنی اصلاح کی فکر کرو۔اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ دیوے۔اسلام سچّا ہے اس کی سچّائی دُنیا میں پھیلے گی۔خدا سے توفیق چاہو اور اسلام کی صداقت ثابت کرنے کا موجب بنو۔ورنہ یادرکھو تم اپنی موجودہ حالت میں اسلام کو جُھوٹا ثابت کررہے ہو۔اس سے ثابت ہے کہ اسلام تم میں نہیں ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ اسلام تمہیں بلند نہ کرتا۔تم اسلام کو مانتے ہو تو سوچ سمجھ کر مانو اور ہر ایک مذہب والے کو بھی میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ غور کرے کہ وہ اپنے مذہب کا پابند ہے تو کیوں ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب لوگوں کو حق کے قبول کرنے کی توفیق دے۔آمین۔(الفضل ۹مئی ۱۹۲۱ء)