انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 405

کیا خدا کی صفات ایک دوسری کے متضاد ہوسکتی ہیں؟ پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات ایک دوسری کے متضاد ہیں تو ان کا عمل کس طرح ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک وجود میں دو باتون کا پایا جانا تضاد نہیں ہوتا۔تضاد تو یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک چیز آجائے تو دوسری نہ ہوسکتے اور یہ بات خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق نہیں کہی جاسکتی۔کہا جاتا ہے کہ اگر خدا رحیم ہے تو پھر شدید العقاب کیونکر ہوسکتا ہے؟ اگر رحیم ہے تو وہ شدید العقاب نہیں ہوسکتا اور اگر شدید العقاب ہے تو رحیم نہیں ہوسکتا۔ہم کہتے ہیں کہ اس اعتراض کے اٹھانے والے اپنے متعلق ہی غور کریں۔اگر کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص رحم دل ہے لیکن دوسرا شخص جواب دے کہ نہیں وہ رحم دل نہیں کل مَیں نے اسے اپنے لڑکے کو مارتے دیکھا تھا تو کیا یہ بات صحیح تسلیم کی جائے گی؟ ہرگز نہیں کیونکہ وہ رحم کے موقع پر رحم کرتا ہے اور سزا کی ضرورت کے وقت سزا دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر وہ شدید العقاب ہے تو رحیم نہیں ہوسکتا اوراگر رحیم ہے تو شدید العقاب نہیں ہوسکتا۔کیونکہ وہ رحم کے موقع پر رحم کرتا ہے اور سزا کے موقع پر سزا دیتا ہے اور سزا کے موقع پر یعنی جہاں سزا سے اس شخص کی اصلاح مد نظر ہو جسے سزا دی گئی ہے سزا کا دینا ہرگز رحم کے خلاف نہیں ہوتا بلکہ رحم ہی کی ایک شاخ سمجھا جاتا ہے۔اس جگہ ایک اور اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ انسان میں رحم اور غضب الگ الگ موقعوں پر ظاہر ہوتے ہیں لیکن خدا میں تو تم ایک ہی وقت میں ساری باتیں مانتے ہو تمہارے نزدیک خدا کے حکم سے ایک ہی وقت ایک کے ہاں بیٹا پیدا ہورہا ہے اور اسی لمحہ میں دوسرے کے ہاں موت واقع ہورہی ہے۔ادھر نبی پر وہ برکتیں نازل کرتا ہے اور دوسری طرف اسی وقت کافروں پر لعنت ڈال رہا ہوتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ محدود وجود کے اعمال محدود ہوتے ہیں انسان ایک وقت میں دو باتوں پر غور نہیں کرسکتا لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ وہ غیر محدود طاقتیں رکھتا ہے۔وہ جس طرح ایک ہی وقت میں ساری دنیا کے کاموں کو معلوم کرلیتا ہے اسی طرح ایک ہی وقت میں اس کی صفتِ رحم اور صفتِ شدید ُالْعِقَاب کام کررہی ہوتی ہیں انسان کی طاقتوں پر خدا کی قدرتوں کا قیاس نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ وہ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْیءٌہے۔