انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 315

قلوب پر قبضہ زیادہ مشکل اس موقعہ پر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تلوار اور طاقت کے ذریعہ جسموں پر غلبہ حاصل کرنا اور بات ہے اور قلوب پر قبضہ کرنا اور بات۔دلوں پر قبضہ کرنے کا کام نہایت مشکل کام ہے۔کہتے ہیں ابن سینا کوئی مسئلہ بیان کررہا تھا ایک شاگرد کو جو اس کی بات بہت پسند آئی تو جھوم کر کہنے لگا آپ تو محمد ؐجیسے ہیں اگر چہ اب سینا فلسفی تھا اور دین سے اسے تعلق نہ تھا مگر آخر مسلمان تھا اسے یہ بات بہت بُری لگی۔جہاں بیٹھے تھے اس کے قریب ہی ایک حوض تھا اور سردی کی وجہ سے یخ بن رہا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد ابن سینا نے اسی شاگرد سے کہا کہ اس حوض میں کُود جائو۔شاگرد نے کہا کیا آپ پاگل ہوگئے ہیں؟اس قدر سردی پڑ رہی ہے اور اتنا ٹھنڈا پانی ہے اس میں کُود نے سےتو مَیں فوراً بیمار ہوجائوں گا۔اس پر ابن سینا نے کہا کہ کیا اسی برتے پر تُو مجھے کہتا تھا کہ تُو محمدؐجیسا ہے؟ محمّد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہزاروں کو کہا آگ میں کُود پڑو۔اور کسی نے نہ پوچھا کہ ایسا کیوں کہتے ہو خوشی سے آگے بڑھ بڑھ کر اپنی جانیں قُربان کردیں اور تو میری اتنی سی بات نہیں مانتا اورباوجود اس کے مجھے حضور سے مشابہت دیتا ہے حالانکہ رسول کریم ؐنے اپنی بات ان لوگوں سے منوائی جو آپ کے جانی دشمن تھے۔غرض انبیاء باوجود بے سروسامانی کےغالب ہوتے ہیں اوران کے دشمن تباہ۔اب ہی دیکھ لو کہاں ہیں مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی اور کہاںہیں حضرت مسیح موعودؑ کے دوسرے دشمن ایک بڑا دشمن تمہارے سمجھانے کے لئے خدا نے رکھا ہوا ہے۔مگر اس کی بھی باری آجائے گی اور اس کا انجام ایسا عبرتناک ہوگا کہ مسیح موعودؑ کے ماننے والے اسے بطور مثال کے پیش کیا کریں گے۔کیا نبی ناکام بھی ہوتے ہیں اس سلسلہ کی اس پہلی دلیل پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم کہتے ہیں نبوت کا دعویٰ کرنےوالے ناکام بھی ہوتے ہیں۔مثلاً مسیحؑکو مخالفین نےپکڑ کر سولی پر چڑھا دیالیکن یہ ان کاناکامی کی دلیل نہیں ہے بلکہ کامیابی کی ہے۔کیونکہ خدا نے انہیں بھٹی میں ڈال کر دکھا دیا کہ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ سچ ہے۔اگرحضرت مسیحؑ صلیب پر وفات پاجاتے اور آپؑ کا سلسلہ تباہ ہوجاتا تو بیشک یہ دعویٰ غلط ہو جاتا مگر خدا نے آپؑ کو آگ میں ڈال کر اور پھر زندہ نکال کر دکھادیا کہ خدا کے نبی پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔حضرت مسیح موعودؑنے بھی لکھا ہے کہ : کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنےوالی ہے