انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 306

اندر رکھا ہے اور اس لئے یہ ہستی باری کا ثبوت نہیں کہلا سکتا۔اعتراض پر اعتراض مگر اس اعتراض پر ہمارا یہ اعتراض ہے کہ تم کہتے ہو کہ یہ باتیں ماں باپ سےورثہ میں چلی آتی ہیں۔مگر یہ بتاؤ کہ ماں باپ کے دل میں کس طرح کیا اور جن چیزوں نے نقصان دیا ان کو بُرا قرار دے دیا اورنفع دینے والی چیزوں کو اچھا اور اپنا نفع نقصان ہر شخص سمجھ سکتا ہے کسی کےسمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔جن چیزوں کو اچھا کہا جاتا ہےوہ سب کی سب مفید ہیں اورجن کو بُرا کہا جاتاہے وہ سب کی سب مضر۔اگر نیکیاں ایسی باتیں ہوتیں کہ جن کا کوئی فائدہ نہ ہوتا اورپھر لوگ انہیں کرتے تو کہتے خدا نے دل میں ڈالی ہیں۔اورنقصان رساں چیزوں سے نقصان نہ ہوتا اورپھر ان سے لوگ بچتے تو سمجھتے خدا نے یہ سکھایا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔اس لئے یہ کہا جائے گا کہ لوگ اچھی باتوں کو ان کے فائدہ کی وجہ سے کرتے اور بُری باتوں کو ان کے نقصان کی وجہ سے چھوڑتے ہیں۔گو اس کا حقیقی اصلی جواب تو اور ہے۔مگر بوجہ طوالت میں اسے چھوڑتا ہوں اور صرف اس جواب پر اکتفا کرتا ہوں کہ بعض نیکیاں ایسی بھی ہیں کہ انسان کا ان کے کرنے میں بظاہر کوئی فائدہ نہیں نظر آتا مگر وہ کرتا ہے۔حتّٰی کہ دہریہ بھی کرتا ہے۔مثلاً یہ کہ ماں باپ بچے سے جو سلوک کرتے ہیں وہ اس کے بچپن میں ہی کرچکتے ہیں۔مگر ایک دہریہ بھی اس بات کا اعتراف کرے گا کہ ان کی عزت کرنی چاہئے۔حالانکہ انسان کے لئے اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا اور اس کے خلاف کرنے کا اگر کوئی نقصان ہوسکتا ہے تو یہی کہ لوگ آئندہ بچوں کی پرورش کرنا چھوڑدیں۔مگر اس میں ان لوگوں کا کیا نقصان ہوگا جو جوان ہوچکے ہیں اوراپنا گھر بار رکھتے ہیں اورپھر یہ بھی غلط ہے کہ ماں باپ آئندہ بچوں کے جوان پونے تک مرجائو گے۔پھر اس کی پرورش کرنے سے تمہیں کیا فائدہ ؟ اسے چھوڑ دو۔یہ کہنے پر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا کہتا ہے۔غرض ماں باپ کی عزت و توقیر کرنا ایسی نیکی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں نظر آتا۔مگر اس کے نیکی ہونے کا کوئی انکار نہیں کرتا۔اسی طرح ساری قوموں میں مردوں کا احترام ضروری سمجھا جاتا ہے مگر اس کا کیا فائدہ ہے؟ اور اس سے کیا نفع ہوسکتا ہے؟ اگر مردہ کو کُتّے کھا جائیں یا اسے ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے جاکر پھینک آئیں تو کیا ہو؟ زیادہ سے زیادہ یہی کہاجاسکتا ہے کہ اس