انوارالعلوم (جلد 6) — Page 304
رہا تھا جیسے جس قسم کے برتن میں پانی ڈالا جائے ویسی ہی شکل اختیار کرلتیا ہے۔ایک جانور کی لمبی گردن مثلاً اس لئے ہوگئی کہ اس کی غذا ءاونچے درخت پر تھی۔اسی طرح جانوروں کی کھالوں نے ویسے رنگ اختیار کرلئے جیسے کہ ان کے گردوپیش کے رنگ تھے یا جن رنگوں کی مدد سے وہ اپنےدشمنوں سے بچ سکتے تھے۔غرض یہ مناسبت ضرورت سے پیدا ہوئی ہے اور مجبوری کا نتیجہ ہے نہ کہ پہلے سے فیصل شدہ قانون کا۔اس کا جواب یہ ہے کہ آخر یہ بھی تو سوال ہے کہ یہ قانون کس نے پیدا کیا ہے کہ جو چیز جس رنگ میں زندہ رہ سکے۔اس قسم کےتغیر اپنے اندر پیدا کرسکتی ہے۔یہ قانون بھی تو کسی بالارادہ ہستی پر ہی دلالت کرتا ہے اندھی نیچر آپ ہی آپ اس قسم کا پیچیدہ قانون کس طرح تیار کرسکتی تھی۔چھٹی دلیل۔دلیل اخلاقی اب میں چھٹی دلیل بیان کرتا ہوں۔اسے دلیل اخلاقی کہنا چاہئے پر دلالت کرتی ہیں۔انسان فطرتاً نیکی کا خواہش مند اور اس کی طرف مائل ہے اور چاہتا ہے کہ اچھی باتیں اس میں پائی جائیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس دلیل کو اس طرح پیش فرمایا ہےلَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَۃِ وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ۔(القیامۃ:۳)تمہارے یہ خیالات کہ کوئی محاسبہ کرنے والی ہستی موجود نہیں ہے بالکل باطل ہیں۔ہم اس کےثبوت میں جزاء و سزا کے وقت کو اور خود انسان کے نفس لوامہ کو پیش کرتے ہیں۔یعنی انسان کے اندر کی اس مخفی طاقت کو جو ہر بُرے فعل پر اندر سے ملامت کرتی ہے اور جب تک وہ بار بار گناہ کا مرتکب ہوکر اس کو مار نہیں دیتا وہ برابر ملامت کرتی رہتی ہے۔بلکہ جب وہ بظاہر مری ہوئی ہوتی ہے تب بھی کبھی اس میں حرکت ہوجاتی ہے اور وہ انسان کو نیکی کی طرف کھینچتی ہے۔اگر خدا نہیں ہے تو انسان کے اندر بدیوں سے رکنے کا احساس کیوں ہے۔پھر تو انسان جو چاہے کرتا رہے۔یہ نیکی بدی کی پہچان خدا نے بندے کےاندر اپنی ذات پر دلالت کرنےکے لئے ہی رکھی ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے فَاَلْھمَھا فُجُوْرَھا وَتَقْوٰىھا (الشمس :۹) ہم نے انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی نیکی بدی کی پہچان اس کے اندر رکھ دی ہے۔اے۔جے بلفور۳ ایک بہت مشہور فلاسفر گذرا ہے۔اس نےاسی دلیل کو لیا ہے وہ کہتا ہے کہ بعض ایسی چیزیں ہیں جن کو ہم خوبصورت سمجھتے ہیں۔اورخوبصورت چیزوں کے حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔مگر پتہ نہیں کہ کیوں یہ خواہش انسانوں میں پائی جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور ہستی