انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 297

(۵) پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ وہ محدود ہے کہ غیر محدود ہے۔جس طرح کہ مادے کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے اور دونوں جوابوں میں سے کوئی جواب بھی دیاجائے اس پر ایک لمبا چکر سوالوں کا شروع ہوجائے گا۔(۶) پھر یہ ماننا پڑے گا کہ وہ ہستی غنی ہے۔اگر غنی نہ مانیں گے تو اس کے سوا اور وجود ماننے پڑیں گے اور اگر ہم غنی مانیں گے تو پھر اسے اندرونی تغیرات سے بھی محفوظ ماننا پڑیگا اوراگر اسے تغیرات سے محفوظ مانا جائے گا تو یہ بھی ماننا پڑیگا کہ وہ دُنیا کی علّت العلل بھی نہیں ہے اور اس صورت میں اسے وجود کے تصور کی بھی کوئی حاجت نہ رہے گی۔پس یہ خیال بھی غلط ہوا لیکن چونکہ تینوں صورتیں جو دُنیا کی پیدائش کے متعلق ممکن تھیں ناممکن ثابت ہوئیں تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ ان ذہن میں نہ آنے والی صورتوں میں سےایک نہ ایک درست ہے۔اور چونکہ جو اعتراض سب صورتوں میں پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ آپ ہی آپ کس طرح ہوگئی۔اس لئے باوجود اس اعتراض کے ایک نہ ایک صورت کو صحیح تسلیم کرنا ہوگا اور یہ ماننا ہوگا کہ گو یہ اعتراض پڑتا ہے مگر دنیا موجود ہے اور اس کے وجود میں کچھ شک نہیں اس لئے باجود اس اعتراض کے دنیا کی پیدائش مذکورہ بالا صورتوں میں سے کسی ایک صورت سے ہوئی ہے اور اس نتیجہ پر پہنچ کر ہر ایک شخص کو یقین کرنا پڑے گا کہ وہ صورت اول ہی ہوسکتی ہے۔یعنی یہ کہ دنیا آپ ہی آپ ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔کیونکہ دوسری اورتیسری صورت میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی علّت آپ ہی آپ کیونکر ہوگئی۔پس جب آگے چل کر پھر اس سوال سے واسطہ پڑنا ہے تو کیوں نہ تسلیم کرلیں کہ دنیا ہی خود بخود پیدا ہوگئی ہے۔پیدائش دنیا پر لوگوں کے خیالات پر بحث سب سے پہلے ان معترضین کے اس خیال کو میں رد کرنا چاہتا ہو ں کہ خدا کا خیال اسی سبب سے پیدا ہوا کہ دُنیا کا خالق دریافت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔خدا تعالیٰ کا وجود جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں الہام سے پیدا ہوا۔پھر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک طرف تو سہی معترضین کہتے ہیں کہ خدا کا خیال لمبے ارتقاء کے بعد پیدا ہوا ہے۔پہلے تو انسانوں نے بعض چیزوں سے ڈر کر ان کے آگے ہاتھ جوڑنے شروع کئے تھے۔آہستہ آہستہ خدا اور عبادت کا مسئلہ بن گیا اور دوسری طرف اس خیال کی ایک خالص فلسفیانہ وجہ بتائی جاتی ہے کہ اس کا خیال دنیا کی پیدائش کے سوال کے حل نہ ہونے کے سبب سے پیدا ہوا۔حالانکہ دونوں خیال متضاد ہیں۔اب میں معترضین کے مقرر کردہ اصول کو لیتا ہوں اور تسلیم کرتا