انوارالعلوم (جلد 6) — Page 293
صلاحیت اور پاکیزگی کے ہوتے ہیں۔بس اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم نے اس میں نہ ختم ہونے والے ذخیرے پیدا کئے جو آئندہ استعمال ہونےوالے تھے چنانچہ سمندوں کی خلق سے اوربعض اندرونی اوربیرونی تغیرات کے قوانین کےذریعہ سےزمین کے ذخائر میں ایسی کثرت پیدا ہوگئی ہے کہ نہ پانی ختم ہوتا ہے نہ غذا اورنہ دوسری ضروری اشیاء۔دوسرے معنی بٰرَک کے پاکیزہ کردینے کے ہیں۔پس اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اسی وقت اس کی فضاء میں ایسی صفائی اور پاکیزگی پیدا کی گئی کہ جس کےذریعہ سے اس میں جانداراشیاء کا رہنا ممکن ہوگیا۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ ہم نے اس میں غذائیں پیدا کیں یعنی نباتات و حیوانات پیدا ہوئے جو بوجہ سانس پر زندہ رہنے کے جّو کی صفائی کے محتاج تھے اور اس وقت تک پیدا نہیں کئے جاسکتے تھے جب تک کہ پہلے جوّ کی صفائی نہ ہوجائے اور فرماتا ہے کہ یہ سب کچھ چار اوقات میں ہوا۔پھر وہ رُحانی سلسلہ پیدا کیا گیا۔جو پیدائش کا موجب تھا اور جس کا مظہر انسان ہے اور اس میں انسان کی روحانی ترقیات کے سامان پیدا کئے گئے اوران کی حفاظت کا انتظام کیاگیا۔غرض قرآن کریم بتاتا ہے کہ دُنیا کے پیدا کرنے میں تدریجی ترقی کو مدِّ نظر رکھا گیا ہے پہلے آسمان زمین، نباتات اور جانوروں کو پیدا کیا گیا۔ان تمام تغیرات کے بعد جو لاکھوں بلکہ کروڑوں سالوں میں ہوئے انسانوں کو پیدا کیا گیا۔اسی لئے فرشتوں نے کہا کہ بھیڑ،بکری، گھوڑے ،اونٹ وغیرہ تو فساد نہیں کرتے۔انسان کہیں گھوڑے کی سواری کرے گا کہیں کسی سے کچھ کام لے گا اور کسی سے کچھ اور اس طرح فساد ہوگا۔تو دلیل ارتقائی جس کو خدا کی ہستی کے رو میں پیش کیا جاتا ہے وہی خدا کی ہستی کا ایک بیّن اور روشن ثبوت ہے۔چنانچہ ایک دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْہُ۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۔(الجاثیۃ:۱۴)اے انسانو! سوچو تو کہ زمیں اور آسمان کے درمیان جو چیزیں بھی ہیں یہ سب تمہارے نفع کے لئے کام میں لگی ہوئی ہیں۔پھر اس امر پر غور کرکے کیا تم اس نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے کہ ایک بِالا رادہ ہستی نے یہ سب کچھ ایک پہلے سے تجویز کردہ سکیم کے مطابق کیا ہے۔منکرین خدا کے مسئلہ ارتقاء پر اعتراض جس رنگ میں منکرین خدا ارتقاء کو مانتے ہیں اس پر کئی اعتراض وارد ہوتے ہیں اور وہ