انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 290

نہیں کہ ایک ہی دن میں سب چزیںپیدا ہوگئیں یا یہ کہ ایک ہی دن میں ایک شئے پیدا ہوگئی۔سب چیزیں بھی تدریحاً پیدا ہوئیں اور ہر ایک چیز بھی آہستہ آہستہ ہی کامل ہوئی۔پس یہ ٹھیک ہے کہ دُنیا میں زندگی کی مختلف رَوئیں چلی ہیں۔پہلے چھوٹی پھر اس سے بری پھر اس سے بڑی۔مگر یہ سب اپنی اپنی جگہ مستقل رَوئیں تھیں۔یہ نہیں تھا کہ ایک ہی رو ترقی کرتےکرتے مختلف شکلیں اختیار کر گئی۔غرض پہلے نہایت ادنیٰ قسم کی مخلوق بنی پھر اس سےاعلیٰ بنی پھر اس سے اعلیٰ۔مگر یہ ترقی الگ الگ ہوئی اور مستقل طور پر۔اور یہ غلط ہے کہ ایک ہی ادنیٰ حیوان سے ترقی کرتے کرتے تمام مخلوق بن گئی۔بات یہ ہے کہ جب زمین اس قابل تھی کہ چھوٹے چھوٹے جاندار اس میں زندہ رہ سکیں اس وقت اس قسم کے جاندار اس میں پیدا ہوئے۔جب زیادہ صفائی اس کی فضا میں پیدا ہوگئی تو زیادہ اعلیٰ قسم کے جاندار اس میں پیدا ہوئے۔یہاں تک کہ فضاء بالکل صاف ہوگئی اور اس میں انسان جو سب سےا علیٰ جاندار تھا پیدا ہوا اوربالکل قرین قیاس ہے کہ انسان کی پیدائیش کے بعد جس قسم کے جاندار ان سڑاندوں سے پیدا ہوسکتے تھے جو انسان ہی کی پیدائش کے بعد پیدا ہوسکتی تھیں۔جو انسان ہی کی پیدائش کے بعد پیدا ہوسکتی تھیں۔انسان کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے۔غرض آدمی بے شک ارتقاء کے اُصول کے ماتحت ہی پیدا ہوا ہے۔مگر ہر جنس کا ارتقاء مستقل تھا نہ کہ ایک چیز دوسری سے پیدا ہوئی۔لیکن یہ نہیں کہ بندر سے انسان بنے بلکہ یہ کہ انسان انسان سے ہی بنے اور بندر بندر سے اور کُتّے کُتّے سے۔مگر ہم کہتے ہیں خواہ کچھ مان لو اس ارتقاء کا مسئلہ سے دہریت باطل ہوجاتی ہے کیوں؟ اس لئے کہ جو لوگ ادنیٰ جانوروں سے ترقی کرکے انسان کی پیدائش مانتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے کچھ حیوانات پیدا ہوئے پھر انہوں نے ترقی کہ اعلیٰ درجہ کا انسان پیدا ہوگیا۔اس پر آکر جسمانی ترقی تو بند ہوگئی لیکن انسانی دماغ کی ترقی جاری ہے۔ہم کہتے ہیں یہی خدا کے ہونے کا ثبوت ہے۔کیونکہ اگر نیچر ہی سب چیزوں کےپیدا کرنے والی ہوتی خدا نہ ہوتا تو جسمانی ترقی بھی جاری رہتی اورانسان سے آگے کچھ اوربنتا۔مگر یہ ظاہر ہے کہ جسمانی تغیر بند ہوگیا ہے۔اور اس کے مقابلہ میں انسانی روح کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے کون سی عقل اس امر کو تسلیم کرسکتی ہے کہ نیچر ایک مقصد قرار دیتی ہے اور اس مقصد کے حصول پر اپنا راستہ بدل دیتی ہے۔انسان کی پیدائش پر ارتقاء جسمانی کا سلسلہ بند ہوجانا اور عقلی اور ذہنی ترقی کا سلسلہ رک نہ جانا بتاتا ہے کہ اس تمام