انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 284

سے معلوم ہوتا ہے۔پس اگر کوئی کہے کہ گلاب کے پھُول کی خوشبو مجھے دکھا دو یا لو ہے کہ سختی مجھے دکھا دو یا خوبصورت آواز دکھا دو۔تو وہ شخص نہایت ہی نادان ہوگا اورجب مادی چیزوں میں سے بھی سب کی سب دیکھنے سے نہیں مانی جاتیں۔تو پھر خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کہنا کہ ہم اسے دیکھے بغیر نہیں مانیں گے کس قدر نادانی ہے۔علاوہ ازیں سب چیزیں حواس خمسہ سے بھی نہیں معلوم کی جاسکتیں۔بعض قیاس سے بھی معلوم کی جاتی ہیں۔ایسی چیزیں نہ سونگھی جاتی ہیں نہ چکھی جاتی ہیں نہ دیکھی جاتی ہیں نہ ٹٹولی جاتی ہیں نہ سنی جاتی ہیں۔جیسے غصہ ہے۔کس طرح پتہ لگتا ہے کہ فلاں میں غصّہ ہے؟کیا چُھو کر یا سُن کر یا چکھ کر یا دیکھ کر یا سونگھ کر۔ان پانچوں طریقوں میں سے کسی سے بھی اس کا پتہ نہیں لگایاجاسکتا۔پھر کیونکر معلوم ہوتا ہے کہ غصہ کوئی چیز ہے اور لوگوں کو آیا کرتا ہے۔اس طرح کہ انسان سمجھتا ہے کہ میں بھی آدمی ہوں اور دوسرے بھی آدمی ہیں پس وہ اپنے غصہ کی حالت کی کیفیات کو جب دوسروں کی ویسی ہی کیفیات سے ملا کر دیکھتا ہے توسمجھ لیتا ہے کہ یہ چیزاوروں میں بھی پائی جاتی ہے اور جس وقت وہ کیفیات دوسرے میں دیکھتا ہے خیال کرلیتا ہے کہ اس وقت اس کو غصّہ آیا ہواہے۔اسی طرح اور کئی باتیں ہیں جو دوسرے کی کیفیت کو اپنے اوپر چسپاں کرنے سے معلوم ہوتی ہیں۔مثلاً درد ہے۔نہ یہ چکھی جاتی ہے نہ سونگھی جاتی ہے نہ دیکھی جاتی ہے نہ چھوئی جاتی ہے نہ سنی جاتی ہے۔پھر کس طرح پتہ لگایا جاتا ہے کہ کسی شخص کو واقع میں درد ہے اور کس طرح ہے اس طرح کہ اپنے نفس پر وہ حالت گزر ی ہوئی ہوتی ہے اور اس کے آثار کا علم ہوتا ہے اس لئے جب کوئی کہتا ہے کہ مجھے فلاں جگہ درد ہے تو دوسرے انسان اس کی شکل اور حالت کو دیکھ کر درد کا حال معلوم کرلیتے ہیں اوراپنے تجربہ کی بناءپر جو تکلیف اسے ہو رہی ہوتی ہے اس کا اندازہ کرلیتے ہیں۔غرض بعض چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا علم حواسِ خمسہ سے بھی نہیں ہوسکتا۔ان چیزوں کی بھی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو قیاس سے معلوم ہوتی ہیں دوسری وہ جو اندرونی حسوں سے معلوم ہوتی ہیں۔مثلاً غیر کا غصہ تو قیاس سے معلوم ہوتی ہیں دوسری وہ جو اندرونی حسوں سے معلوم ہوتی ہیں۔مثلاً غیر کا غصہ تو قیاس سے معلوم ہوسکتا ہے۔لیکن اپنے آپ کو جب غصہ یا پیار آتا ہے تو اس کا پتہ قیاس سے نہیں لگایا جاتا اور نہ وہ سونگھنے ،چکھنے ،دیکھنے ،سننے اور چُھونے سے معلوم ہوتا ہے بلکہ انسان کی اندرونی حسیں اسے محسوس کرتی ہیں۔پھر بعض ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے اثرات سے ان کو معلوم کرتے ہیں جیسے مقناطیس ہے اسے جب لوہے کے پاس رکھا جائے تو اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس سے ہم سمجھ لیتے ہیں