انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 270

جو مذہب پر پہلے سے ہی معترض تھے ان کے مدد گار ہوگئے اور علوم کی ترقی کے ساتھ ساتھ مذہب کی گرفت بھی کم ہوتی چلی گئی۔مشرق میں جب ان علوم کا رواج ہوا تو چونکہ کتابیں لکھنے والے مسیحیت سے تنگ آکر دوسری حد کی طرف نکل گئے تھے جس طرح پادری ہر ایک علمی تحقیق کو کلام الٰہی کے خلاف ثابت کرتے تھے۔انہوں نے ہر ایک علمی تحقیق سے یہ نتیجہ نکالنا شروع کیا کہ خدا ہی کوئی نہیں اور ان کی کتب کے مطالعہ کا یہ نتیجہ نکلا یہ وہ دل جو پہلے ہی زنگ آلود تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بالکل دُور جاپڑے اور طبائع دہریت کی طرف مائل ہوگئیں۔فلسفی خیالات کے متعلق ایک اور مصیبت ہے اس میں صر ف دماغ کی تر و تاز گی کا سامان ہے کرنا کرانا کچھ نہیں پڑتا اس لئے بہت سے لوگ اس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اس کے خلاف مذہب پر غور و تدبر کرنے کا نتیجہ عملی اصلاح ہے جو لوگوں پر گراں گزرتی ہے۔مثلاً جو شخص اسلام پر غور کرنے گا اور اس کی خوبی کا قائل ہوگا اس کو ساتھ ساتھ کچھ کرنا بھی ہوگا اور مذہب میں ترقی کے ساتھ ساتھ عمل میں بھی ترقی ہوتی چلی جائے گی۔اگر پہلے فرض شروع کرے گا تو اور غور کرنے پر سنتیں بھی پڑھنے لگ جائے گا اور پھر جب اور غور کرے گا تو اسے معلوم ہوگا نوافل بھی بہت غرض مذہب میں انسان جس قدر غور و فکر سے کام لے گا اسی قدر زیادہ پابندیاں اپنے اوپر عائد کرتا جائے گا۔مگر فلسفہ میں یہ بات نہیں ہوتی صرف دماغ تازہ کیا جاتا ہے اور عملی طور پر کیا کرایا کچھ نہیںجاتا اس لئے لوگ ادھر زیادہ متوجہ ہوجاتے ہیں ،غرض دہریت اور خدا کے انکار کا اس زمانہ میں بڑا زور ہے۔ایک وجہ اے انکار کی یہ بھی ہے کہ عام طور پر لوگ خود تحقیق نہیں کرتے بلکہ ان کے مذہب کی بنیاد صرف ماں باپ کے ایمان پر ہوتی ہے اور جن لوگوں کی اپنی تحقیق کچھ ہو ہی نہیں وہ اعتراض کا دفعیہ نہیں کر سکتے بلکہ جلد ان سے متأثر ہوجاتے ہیں۔کیونکہ ایک طرف سُنی سُنائی بات ہوتی ہے اور دوسری طرف دلیل ،اگر وہ لوگ دل سے خدا تعالیٰ کو مانتے ہوتے تو اس قدر دہریت نہ پھیلتی۔مثلاً یہ میز پڑی ہے یا یہ سائبان۔اگر کوئی فلسفی کہے کہ یہ میز نہیں یا یہ سائبان نہیں یا اس وقت سورج چڑھا ہوا نہیں۔تو کیا یہ ممکن ہے کہ آپ لوگوں میں سے کوئی اس کی بات مان لے۔اسی طرح اگر لوگوں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا ہوتا اسے حقیقی طور پر مانتے تو کس طرح ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ کا انکار کرنے والوں کی بات مان لیتے۔بات یہی