انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 254

اس وقت ان کے ساتھ ہیں۔ان کا وجود ہی اس بات کی کافی شہادت ہےکہ انجمن انصار پر خلافت کے متعلق سازش کرنے کاالزام ایک جھوٹ ہے جو محض نفسانیت کے شر سے فریب دہی کے لئے بنایا گیا ہے۔انصار اللہ کے متعلق یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے قریب ایک کارڈ باہر بھیجا تھا کہ حضرت کی طبیعت بہت کمزور ہے اور زندگی کا عرصہ کم معلوم ہوتا ہے جو بیشک انجمن انصار اللہ کے سیکرٹری نے ایسا کارڈ لکھا کیونکہ انصار اللہ کی سازش تھی۔بیشک انجمن انصار اللہ کے سیکرٹری نے ایسا کارڈ لکھا کیونکہ انجمن انصار اللہ کے فرائض میں سے خدمت احباب بھی ایک فرض تھا۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ کارڈ انہوں نے کس کو لکھا۔اگر صرف انصار اللہ کو لکھا جاتا تب بھی کوئی قابلِ اعتراض بات نہ تھی۔مگر دشمن اپنے عنا د سے کہہ سکتا تھا کہ اس کے لکھنے کی اصل غرض یہ تھی کہ اپنے ہم خیال لوگوں کو بلوالیا جاوے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔یہ کارڈ تمام انجمن ہائے احمدیہ کے سیکرٹریوں کو لکھا گیا اور صرف انصار اللہ کے نام نہیں گیا۔پس اس کارڈ سے اگر خلافت کے متعلق ہی نتیجہ نکالا جاوے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انجمن انصار اللہ چاہتی تھی کہ جہاں تک ہوسکے اس موقع پر تمام جماعت کے نمائندہ موجود ہوں تا کہ کافی مشورہ ہوسکے۔یہ اس کا فعل قابلِ تحسین ہے یا قابل ملامت ؟اور کیا یہ کارڈ ہی انجمن انصار اللہ کی بریت نہیں کرتا؟میں صرف ہوتی۔اور وہ ایسی اطلاع صرف انجمن انصاراللہ کے ممبروں کو دیتے تا کہ من مانی کارروائی کرسکیں۔مگر انجمن انصار اللہ نے وقت پر سب جماعتہائے احمدیہ کو نہ کہ اپنے خاص معتبروں کو اطلاع کردی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ قریباً دو ہزار آدمی اس موقع پر جمع ہوگیا۔اورپھر کیا یہ درست نہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی بیماری کے ایام میں دو دفعہ اسی قسم کی اطلاعیں مولوی صدر الدین صاحب کی طرف سے شائع کی گئی تھیں کہ اگر کارڈ سازش تھا تو کیا انکی تحریر سازش نہ تھی۔ایک اور غلط الزام ہمارے بدنام کرنےکےلئے ایک اور ترکیب یہ کی گئی کہ مشہور کیا گیا کہ جو لوگ مجمع میں جمع ہوئے تھے وہ پہلے سے سکھائے ہوئے تھے کہ وقت پر میرا نام خلافت کے لئے لے دیں۔اور اس کا ثبوت یہ دیا جاتا ہے کہ مولوی محمد اسمٰعیل صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح کی حیات میں بعض لوگوں سے کہا کہ چالیس آدمی ایسے تیار ہوجاویں جو اس وقت میرے ہاتھ پر بیعت کرلیں۔مجھے اس موقع پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض پیش آمدہ