انوارالعلوم (جلد 6) — Page 239
حضرت خلیفہ اوّل کی وفات پر پہلی تقریر اسی وقت تمام جماعت کو اطلاع کے لئے تاریں روانہ کردی گئیں۔خدا تعالیٰ کے حضور دُعائیں اکثر حصۂ جماعت لگ گیا۔عصر کے وقت مسجد نُور میں جبکہ جماعت کا اکثر حصہ وہاں جمع تھا۔مَیں نے ایک تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا:- حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کے ساتھ ہم پر ایک ذمہ داری رکھی گئی ہے۔جس کے پورا کرنے کے لئے سب جماعت کو تیار ہوجانا چاہئے۔کوئی کام کتنا ہی اعلیٰ ہو۔اگر ارادہ بد ہو تو وہ خراب ہوجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم کے پڑھنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اَعُوْذُ پڑھنے کا حکم دیا ہے اور ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ نازل کی ہے۔اَعُوْذُ میں انسان بد نیتی سے پناہ مانگتا ہے اور بسم اللہ کےذریعہ عمل نیک کی توفیق چاہتا ہے۔پس جبکہ قرآنِ کریم کی تلاوت جو خدا کا کلام ہے اور جس کا پڑھنا خدا تعالیٰ نے فرض کیا ہے۔اس کے لئے اس قدر احتیاط کی ضرورت ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں نماز کے متعلق فرماتا ہے:- فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ الَّذِيْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ۔الَّذِيْنَ ہُمْ يُرَاۗءُوْنَ (الماعون:۵تا ۷) یعنی عذاب ہے ان نمازیوں کے لئے جو غرض نماز سے ناواقف ہوتےہیں اور لوگوں کے دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔وہ نماز جو خدا تعالیٰ کے قرب کاذریعہ ہے اسی کو اس آیت میں نیت کے فرق کے ساتھ موجب عذاب قرار دیا ہے۔پس جو امانت اب ہمارے سپرد کی گئی ہے اس کے پورا کرنے کے لئے ہمیں خاص دُعائوں میں لگ جانا چاہئے اور اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ بہت پڑھنا چاہئے تا کہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہم پر نازل ہو اور اس کی رضا ہم پر ظاہر ہو۔اگر خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہم پر نازل ہو اور اس کی رضا ہم پر ظاہر ہو۔اگر خدا تعالیٰ نےمدد نہ کی تو خطرہ ہے کہ ہم ہلاکت میں نہ پڑجاویں۔پس آج سے ہر ایک شخص چلتے پھرتے نمازوں میں اور نمازوں سے باہر دُعامیں لگ جاوے تا خدا ہماری حفاظت کرے اور سیدھے راستہ سے نہ ہٹنے دے اور رات کو اُٹھ کر بھی دعا کرو اورجن کو طاقت ہو روزہ رکھیں۔اس کے بعد سب لوگوں کے ساتھ مل کر مَیں نےدعا کی اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس گئے۔(تفصیل ملاحظہ ہوالحکم ۱۴ ؍مارچ ۱۹۱۴ء جلد ۱۸ نمبر ۳،۴ صفحہ ۹)