انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 190

تک پہنچا ہے آپ لوگ اس کیفیت کا اندازہ نہیں کرسکتے جو اس وقت احمدیوں پر طاری تھی۔سوائے چند خود غرض لوگوں کے باقی سب کے سب خواہ کسی خیال یا کسی عقیدہ کے ہوں مُردہ کی طرح ہورہے تھے اور ہم میں سے ہر ایک شخص اس امر کو بہت زیادہ پسند کرتا تھا نکہ وہ اور اس کے اہل و عیال کولہو میں پیس دئیے جاویں۔بہ نسبت اس کے کہ وہ اختلاف کا باعث بنیں۔اس دن دُنیا باوجود فراخی کے ہمارے لئے تنگ تھی اورزندگی باوجود آسایش کے ہمارے لئے موت سے بدتر ہورہی تھی۔میں اپنا حال بیان کرتا ہوں کہ جوں جوں رات گزرتی جاتی تھی اور صبح قریب ہوتی جاتی تھی کرب بڑھتا جاتا تھا اورمَیں خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا کر دُعا کرتا تھا کہ خدایا مَیں نے گو ایک رائے کو دوسری پر ترجیح دی ہے مگر الٰہی !مَیں نے بے ایمان بننا نہیں چاہتا تو اپنا فضل کر اور مجھے حق کی طرف ہدایت دے۔مجھے اپنی رائے کی بچ نہیں۔مجھے حق کی جستجو ہے۔راستی کی تلاش ہے دُعا کے دوران میں مَیں نے یہ بھی فیصلہ کرلیا کہ اگر خدا تعالیٰ نے مجھ کچھ نہ بتایا تو مَیں جلسہ میں شامل ہی نہ ہوں گا تا کہ فتنہ کا باعث نہ بنوں۔جب میرا کرب اس حد تک پہنچا تو خدا کی رحمت کے دروازے کُھلے اور اس نے اپنی رحمت کے دامن کے نیچے چُھا لیا اور میری زبان پر یہ لفظ جاری ہوئے۔کہ قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ(الفرقان:۷۸)یعنی ان لوگوں سے کہ دے کہ تمہارا ربّ تمہاری پرواہ کیا کرتا ہے اگر تم اس کے حضور گر نہ جائو۔جب یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہوئے تو میرا سینہ کھل گیا اور مَیں نے جان لیا کہ میرا خیال درست ہے۔کیونکہ اس آیۃ کریمہ میں قُلْ یعنی کہہ کا لفظ بتاتا ہے کہ میں یہ بات دوسروں کو کہدوں۔پس معلوم ہوا کہ جو لوگ میرے خیال کے خلا ف خیال رکھتے ہیں ان سے خدا تعالیٰ ناراض ہے نہ مجھ سے تب مَیں اُٹھا اور مَیں نے خدا تعالیٰ کا شکر کیا اورمیرا دل مطمئن ہوگیا اور مَیں صبح کا انتظار کرنےلگا۔یوں تو احمدی عموماً تہجّد پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔مگر یہ رات عجیب رات تھی کہ بہتوں نے قریباً جاگتے ہوئے یہ رات کاٹی۔اورقریباً سب کے سب تہجد کےوقت سے مسجد مبارک میں جمع ہوگئے تا کہ دُعا کریں اوراللہ تعالیٰ سے مدد چاہیں۔اوراس دن اس قدر درد مندانہ دُعائیں کی گئیں کہ میں یقین کرتا ہوں کہ عرشِ عظیم ان سے ہِل گیا ہوگا۔سوائے گر یہ و بُکا کےاور کچھ سنائی نہ دیتا تھا اوراپنےرب کےسوا کسی کی نظر اور کسی طرف نہ جاتی تھی اور خدا کےسوا کوئی ناخدا نظر نہ آتا تھا۔آخر صبح ہوئی اور نماز کی تیاری شروع ہوئی۔چونکہ حضرت خلیفہ اوّل کو آنے میں کچھ دیر ہوگئی۔خواجہ صاحب کے رفقاء نے اس موقع کو غنیمت جان کر لوگوں کو پھر سبق پڑھانا شروع کیا۔