انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 173

کے کھولوں گا۔یہ قول تو اس کا ایک ادنیٰ ہے۔اس کا تو وہی حال ہے جو فرعون کاتھا…اگر بالآخر توبہ نہ کی توغرق طوفان ضلالت میں ہوجاوے گا۔آمین‘‘(مورخہ۱۱ ؍فروری ۱۹۱۵؁ء) مولوی سیّد محمد احسن صاحب کے ان دونوں خطوط سے ثابت ہوتا ہے کہ سّید صاحب نے رسالہ القول الفصل کو بغور شروع سے آخر تک سُنا۔اور اس کے مضمون کو صادقہ اور مصدوقہ پایا۔یعنی وہ مضامین سچّے بھی ہیں اور خدا تعالیٰ اور اس کے راست باز بندوں کی طرف سے ان کی صداقت ثابت بھی کی گئی ہے۔اور یہ کہ اس کتاب کے سننے سے آپ اس قدر خوش ہوئے کہ آپ کو اپنی بیماری بھی بھول گئی۔اور آپ نے اس کو سن کر مجھ میں وہ با ت پالی۔جس کے آپ سالہا سال سے منتظر تھے (اس سے آپ کا اشارہ میرے موعود بیٹا ہونے کی طرف ہے جس کا ذکر آپ اکثر خطبات و گفتگو میں فرمایا کرتے تھے)اور اس کتاب کو بُرا کہنے والے کو آل فرعون اور فرعون اور طوفان ضلالت میں غرق ہونے والا قرار دیا۔پس اس قدر تائید اور اتفاق کے بعد جو ان مسائل سے سید صاحب ظاہر فرما چکے ہیں۔انہی مسائل کی بناء پر وہ کس طرح بیعت توڑنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ایسی بات تو کسی عقلمند کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔ضرور ہے کہ حقیقت کچھ اور ہو۔اور یا تو مولوی صاحب کو دھوکا دیا گیا ہو یا فریب سے ان کی طرف وہ باتیں منسوب کردی گئی ہوں۔جو انہوں نے نہ کہی ہوں۔پس یہ کہنا کہ سب سے پُرانے اور سب سے عالم صحابی مسیح موعودؑ نے میرے عقائد کے خلاف لکھا ہے۔درست نہیں۔کیونکہ ان مسائل کی اس قدر تائید کے بعد سید صاحب کا ان کو مسائل کفریہ قرار دینا کسی عقلمند کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔مسئلہ تکفیر غیر احمدیاں کے متعلق جو میرا مضمون تشحیذ الاذہان میں شائع ہوچکا ہے۔اس کی تائید میں مولوی صاحب کا ایک اور خط بھی ہے۔جس میں سے اقتباس ذیل اُمید ہے کہ حق پسندلوگوں کے لئے مفید ہوگا مولوی صاحب میرے اس مضمون کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:- ’’میری رائے ناقص میں کفر کافر کی بحث میں آپ نے تبلیغ کامل کردی ہے۔اب اس بحث کی طرف بالکل توجہ نہ فرماویں۔لَا یَضُرُّ کُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ‘‘(المائدۃ :۱۰۶) یہ خط میرے مضمون متعلق تکفیر احمدیاں کے متعلق ہےجو اپریل ۱۹۱۱؁ء میں شائع ہوا اور یہ خط ۶ ؍ ستمبر ۱۹۱۱؁ء کو مولوی صاحب نے میرے نام اپنے وطن امروہہ سے لکھا۔