انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 170

صالح عظیم الشان پیدا ہوگا۔چنانچہ حضرت میرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب موجود ہیں منجملہ ذریت طیبہ کے اس تھوڑی سی عمر میں جو خطبہ انہوں نے چند آیا ت قرآنی کی تفسیر میں بیان فرمایا اور سنایاہے جس قدر معارف اور حقائق بیان کئے ہیں وہ بے نظیر ہیں۔اب کوئی انہیں معمولی سمجھے اور کہے یہ تو کل کے بچّے ہیں ابھی ہمارے ہاتھوں میں پلے ہیں کھیلتے کُودتے پھرتے تھے تو یاد رہے کہ یہ فرعونی خیالات ہیں۔چنانچہ فرعون نے بھی حضرت موسٰی سے یہی کہتا تھا :- اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًاوَّلَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ(الشعراء: ۱۹)میرے بھائیوں ! اگر ایسا خیال کسی کے دل میں آئے تو استغفار پڑھے۔کیونکہ فرعون کابُرا انجام ہوا۔(اخبار بدر ۲۶ جنوری ۱۹۱۱ء؁ جلد ۱۰ نمبر ۱۳ صفحہ ۲) پس یہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ مولوی سید محمد احسن صاحب کو میرےعقائد کا علم نہ تھا۔ان کو میرے عقائد کا علم تھا اور ضرور تھا۔پس پہلے انہی عقائد کے ہوتےہوئے ان کا میری بیعت کرنا اورپھر انہی عقائد کی بناء پر اس بیعت کو توڑنا کیونکر قابل تسلیم ہوسکتا ہے۔اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ نبوت حضرت مسیح موعود ؑ کے متعلق ہمارا عقیدہ وہی ہے جو تشحیذ الاذہان میں مولوی سید محمد احسن صاحب نے تحریر فرمایا ہے اور صرف نام میں اختلاف ہے۔اسمہ ٗاحمد کی بحث اور مولوی محمد احسن صاحب کا عدمِ انکار تیسرا عقیدہ جس کی نسبت کہا گیا ہے کہ یہ نیا بنایا گیا ہے۔اسمہٗ احمد کا مصداق حضرت مسیح موعودؑ کو قرار دینا ہے۔یہ عقیدہ بھی غلط ہو یا درست۔مگر مولوی سید محمد احسن صاحب کے فسخ بیعت سے پہلے شائع ہوچکا ہے اور اس کے بعد وہ برابر مجھ سے تعلق رکھتے رہے ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں مَیں نے ایک مضمون اسمہٗ احمد والی پیشگوئی میں تحریر کیا تھا مگر آپ کو دکھانے کا موقع نہ ملا۔وہ شروع ایام خلافت میں ہی مکرمی قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل نے رسالہ تشحیذ الاذہان ٭میں شائع کردیا تھا اور اس کے دو سال بعد مولوی صاحب نے بیعت کے توڑنےکا اعلان کیا ہےاور اس عرصہ میں برابر میری تائید اور مولوی محمد علی صاحب اوران کے رفقاء کی تردید کرتے رہے ہیں۔پس یہ عقیدہ بھی اصل بناء نہیں ہوسکتا۔مجھے سے عقائد میں موافقت رکھنے پر سیّد محمد احسن صاحب کی تحریری شہادت میں اس مضمون کے ختم ہونے سے پہلے مولوی صاحب کی طرف سے ایک تحریری شہادت میں اس امر کی پیش کرتا ہوں کہ مولوی سید محمد احسن صاحب نے ان تینوں عقائد کو پسند یدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔اوران کے منکروں کو فرعون وغیرہ کہا ہے بلکہ ان کی اشاعت *ستمبر ۱۹۱۴ جلد ۹ ص ۱ تا ۱۹ بعنوان احمد علیہ السلام